تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 19
یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ع﴿19﴾
- يُخْرِجُوہ نکالتا ہے
- الْحَيَّزندہ
- مِنَ الْمَيِّتِمردے سے
- وَيُخْرِجُاور نکالتا ہے وہ
- الْمَيِّتَمردہ
- مِنَ الْحَيِّزندہ سے
- وَيُحْيِاور وہ زندہ کرتا ہے
- الْاَرْضَزمین
- بَعْدَبعد
- مَوْتِهَا ۭاس کا مرنا
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- تُخْرَجُوْنَتم نکالے جاؤ گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے اور مردہ کو زندہ سے پیدا کرتا ہے اور زمین کو اس کے خشک ہوجانے کے بعد ازسر نور شاداب کردیتا ہے اور اسی طرح تم بھی نکالے جائو گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ویحی الارض بعد موتھا وکذلک تخرجون (19)
’ اخراج ‘ کے معنی جس طرح کسی چیز سے کسی چیز کے نکالنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی چیز کے ظاہر کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہ منکرین قیامت کے استبعاد کو رفع فرمایا ہے کہ تم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو بہت مستبعد سمجھتے ہو حالانکہ اس دنیا کے ہر گوشہ میں زندہ کر مردہ سے ظہور میں آتے اور زندہ پر موت کو طاری ہوتے دیکھتے ہو۔ اس کی مثال کے طور پر فرمایا کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ بالکل خشک اور مردہ ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ بارش کے ایک ہی چھینٹے سے اس کے ہر گوشے میں زندگی نمودار کردیتا ہے۔ اسی طرح تم بھی ایک دن مر کھپ جانے کے بعد نکال کھڑے کیے جائو گے۔ زندگی اور موت سب خدا کے اختیار میں ہے۔ نہ اس کے لئے زندہ کو مردہ کرنا مشکل ہے نہ مردہ کو زندہ کرنا قیامت کا ریہرسل برابر تمہاری نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہاں مثال دراصل حیات بعد الموت کی پیش کرنی مقصود ہے لیکن اپنی کامل قدرت کو سامنے لانے کے لئے موت بعد الحیات کا بھی حوالہ دے دیا ہے۔ انعام کی آیات 95۔ 96 کے تحت اس پر مفصل بحث گزر چکی ہے۔