تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 20
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ﴿20﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓاور اس کی نشانیوں سے
- اَنْکہ
- خَلَقَكُمْاس نے پیدا کیا تمہیں
- مِّنْسے
- تُرَابٍمٹی
- ثُمَّپھر
- اِذَآ اَنْتُمْناگہاں تم
- بَشَرٌآدمی
- تَنْتَشِرُوْنَپھیلے ہوئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم دیکھتے دیکھتے بشربن کر روئے زمین پر پھیل جاتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن ایتہ ان خلقکم منتراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون (20)
یعنی تم کو جن حقائق کے ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے وہ تمام تر تمہارے خالق کی قدرت و حکمت پر مبنی ہیں تو اس کی قدرت و حکمت کے ثبوت کے لئے تم کسی خارجی دلیل کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اس کی سب سے بڑی دلیل تو خود تمہاری خلقت ہی کے اندر موجود ہے۔ اس نے تم کو جامد مٹی سے پیدا کیا اور پھر تم زندہ اور عقل و شعور رکھنے والے ہستی بن کر تمام روئے زمین پر پھیل گئے۔ ’ اذا ‘ یہاں اس عظیم قدرت و شان کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے۔ یعنی غور کرو، کہاں خشک مٹی اور کہاں جیتا جاگتا انسان، دیکھتے دیکھتے خدا کی قدرت نے اسی مٹی سے ایک پورا جہان آباد کردیا ! مطلب یہ ہے کہ اگر یہ انسان بات پر جھگڑے کہ خدا اس کو دوبارہ کس طرح پیدا کرسکتا ہے تو یہ بالوت و حماقت کی انتہا ہے۔ اسی بات کو قرآن میں دوسرے مقام میں یوں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا تو کیا مٹی سے لیکن اب وہ ہمارا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اور علانیہ ہماری قدرت کو چیلج کر رہا ہے !