تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 22
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ﴿22﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖاور اس کی نشانیوں سے
- خَلْقُاس نے پیدا کیا
- السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
- وَالْاَرْضِاور زمین
- وَاخْتِلَافُاور مختلف ہونا
- اَلْسِنَتِكُمْتمہاری زبانیں
- وَاَلْوَانِكُمْ ۭاور تمہارے رنگ
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں
- لِّلْعٰلِمِيْنَعالموں (دانشمندوں) کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی خلقت اور تمہاری بولیوں اور تمہارے رنگوں کو تنوع بھی ہے۔ بیشک اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں اصحابِ علم کے لئے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن ایتہ خلق السموات والارض واختلاف السنتکم والونکم ط ان فی ذلک لایت للعلمین (22)
اُسی حقیقت کی طرف جو اوپر والی آیت میں مذکورہوئی ہے ایک دوسرے زاویے سے توجہ دلائی کہ اگر لوگ غور کری تو ان کو یہ چیز صاف نظر آئے گی کہ اس کائنات میں کثرت کے اندر و حدت مضمر ہے۔ ایک طرف آسمانوں کی ایک وسیع اور ناپید کنار کائنات ہے اور دوسری طرف یہ کرہ زمین ہے۔ بظاہر دونوں میں کتنی دوری ہے لیکن اس دوری کے باوجود دونوں میں اتنا گہرا اتصال ہے کہ کوئی عاقل یہ تصور نہیں کرسکتا کہ دونوں الگ الگ خالقوں کی قدرت سے وجود میں آئے اور الگ الگ ارادوں کے تحت گردش کر رہے ہیں بلکہ ان کی باہمی سازگاری پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی قدیر و حکیم دونوں پر متصرف ہے اور دونوں کو ایک مشترک مقصد کے لئے مسخر کئے ہوئے ہے۔ اسی طرح انسانوں کے عالم پر غور کیجئے تو نظر آئے گا کہ قوموں قوموں کی زبانیں الگ اور فرد فرد کا لہجہ مختلف ہے، اسی طرح ان کے رنگ بھی الگ الگ ہیں، لیکن اس اختلاف و تنوع کے باوجود کوئی عاقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں رنگ اور فلاں زبان و لہجہ کے لوگ الگ خدا کی مخلوق ہیں اور فلاں رنگ و روغن کے لوگ کسی الگ خالق کی مخلوق ہیں، بلکہ ہر دانشمند یہ جانتا ہے کہ ایک ہی خالق نے تمام انسانوں کو وجود بخشا ہے۔ یہ محض اس کی حیرت انگیز کا ریگری کا کرشمہ ہے کہ اس نے ہر انسان کا لب و لجہ اور اس کا ناک نقشہ ایسا بنایا ہے کہ لاکھوں کروڑوں آدمیوں کا بھی جائزہ لیجئے تو ناممکن ہے کہ کوئی دو فرد بھی آپ کو بالکل ایک ہی رنگ و روغن ایک ہی قدو قامت اور ایک ہی ناک نقشہ کے مل سکیں۔
’ ان فی ذلک لایت للعلمین۔ ‘ فرمایا کہ علم والوں کے لئے اس کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں۔ اوپر والی آیت میں لقوم یتفکرون ‘ فرمایا تھا یہاں للعلمین فرمایا ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اصلی عالم درحقیقت وہی لوگ ہیں جو اس کائنات پر تفکر کرتے اور اس تفکر ہے اس کی کثرت کے اندر وحدت اور اس کے اضداد کے اندر تو افق و سازگاری کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر اس کے خالق کی صفات قدرت و حکمت سے اس نتیجہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ عظیم کائنات بےغایت و مقصد نہیں ہوسکتی اس وجہ سے لازم ہے کہ ایک روز جزا آئے جس میں نیکو کار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بدکار اپنی بدیوں کی سزا بھگتیں۔
اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ قوموں کے درمیان زبان اور رنگ کے اختلاف کو فارق نہیں ہونا چاہیے۔ انسانوں کے درمیان یہ چیزیں وصل و فصل کی بنیاد نہیں ہیں۔ جس طرح رنگوں اور زبانوں کے اختلاف کے باوجود تمام انسان خدا کی مخلوق ہیں اسی طرح اس قسم کے تمام ظاہری اختلافات کے علی الرفع تمام انسانوں کو ایک ہی خدائی نظام کے تحت زندگی بسر کرنی چاہیے۔ جو لوگ رنگ، نسلی یا زبان یا اس نوع کی کسی اور چیز کو انسانوں کے درمیان وصل و فصل کی بنیاد بتاتے ہیں۔ وہ اس کائنات کی وحدت پر ضرب لگاتے ہیں اور یہ چیز قرآن کی اصطلاح میں شرک اور فساد فی الارض ہے۔ وہ اس کائنات کی وحدت پر ضرب لگاتے ہیں اور یہ چیز قرآن کی اصطلاح میں شرک اور فساد فی الارض ہے۔