تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 23
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ﴿23﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖاور اس کی نشانیوں سے
- مَنَامُكُمْتمہارا سونا
- بِالَّيْلِرات میں
- وَالنَّهَارِاور دن
- وَابْتِغَآؤُكُمْاور تمہارا تلاش کرنا
- مِّنْ فَضْلِهٖ ۭاس کے فضل سے
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں
- لِّقَوْمٍان لوگوں کے لیے
- يَّسْمَعُوْنَوہ سنتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل کا طالب بننا ہے۔ بیشک اس کے اندر گونا گوں نشانیاں ہیں ان کے لئے جو سننے سمجھنے والے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن ایتہ منامکم بالیل والنھار وابتغاء کم من فضلہ ان فی ذلک لایت یقوم یسمعون (23)
’ ابتغا ئو کم من فضلہ ‘ کا عطف ’ منامکم ‘ پر ہے اس وجہ سے آیت کا مطب یہ ہوگا کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ چیز بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات بنائی جس میں تم سوتے ہو اور دن بنایا جس میں تم اس کے رزق و فضل کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہو۔ اس مفہوم کی نظیریں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔
’ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون ‘ فرمایا کہ اس میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو بات کو سنیں۔ رات اور دن کے توافق کے اندر توحید کی جو دلیل ہے اور شب میں سونے کے بعد صبح کو اٹھنے میں قیامت کا جو اشارہ ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے لیکن یہ نشانیاں اور دلیلیں ان لوگوں کی سمجھ میں آسکتی ہیں جو پیغمبر اور قرآن کی بات کو توجہ سے سنیں۔ اس فقرے میں مخالفین کے رویہ پر تعریض ہے کہ جو لوگ بات سننے اور سمجھنے کے بجائے مخالفت کے لئے آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں ان کے لئے یہ سارے دلائل بےسود ہیں۔
اوپر کی آیات میں ’ تفکر اور ’ علم ‘ کا ذکر ہوا ہے اور ہم ان کے باہمی تعلق کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ یہاں ’ سمع ‘ کا ذکر ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا درجہ اور اوپر کی دونوں چیزوں کے نیچے ہے لیکن حصول علم کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے۔ اگر ایک شخص کے اندر اتنی معقولیت موجود ہو کر وہ معقول لوگوں کی باتیں توجہ سے سُنے تو اس راہ سے بھی اس کو ہدایت حاصل ہوسکتی ہے اگرچہ وہ کائنات کے نظام اور اس کے اسراء میں زیادہ تفکر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔