Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 28

  1. ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿28﴾

    1. ضَرَبَاس نے بیان کی
    2. لَكُمْتمہارے لیے
    3. مَّثَلًاایک مثال
    4. مِّنْسے
    5. اَنْفُسِكُمْ ۭتمہاری جانیں (حال)
    6. هَلْ لَّكُمْکیا تمہارے لیے
    7. مِّنْسے
    8. مَّا مَلَكَتْجو مالک ہوئے
    9. اَيْمَانُكُمْتمہارے دائیں ہاتھ (غلام)
    10. مِّنْ شُرَكَآءَکوئی شریک
    11. فِيْمیں
    12. مَا رَزَقْنٰكُمْجو ہم نے تمہیں رزق دیا
    13. فَاَنْتُمْسو (تاکہ) تم
    14. فِيْهِاس میں
    15. سَوَآءٌبرابر
    16. تَخَافُوْنَهُمْ(کیا) تم ان سے ڈرتے ہو
    17. كَخِيْفَتِكُمْجیسے تم ڈرتے ہو
    18. اَنْفُسَكُمْ ۭاپنی جانیں (اپنوں سے)
    19. كَذٰلِكَاسی طرح
    20. نُفَصِّلُہم کھول کر بیان کرتے ہیں
    21. الْاٰيٰتِنشانیاں
    22. لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَعقل والوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ تمہارے لئے خود تمہارے اندر سے ایک تمثیل بیان کرتا ہے۔ کیا ہم نے تم کو جو رزق و فضل بخشا ہے اس میں تمہارے مملوکوں میں سے بھی کچھ شریک ہیں کہ تم اور وہ اس میں برابر کے حقوق رکھنے والے بن گئے ہو اور جس طرح تم اپنوں کا لحاظ کرتے ہو اسی طرح ان کا بھی لحاظ کرتے ہو ؟ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ضرب لکم مثلا من انفسکم ھل لکم من ما ملکت ایمانکممن شرکاء فی مارزقنم فانتم فیہ سواء تخافو نھم کخیگتکم انفسکم کذلک مفصل الایت لقوم یعقلون (28) یہ خدا کی صفات اور اس کے حقوق میں دوسروں کی حصہ داری کے خلاف ایک ایسی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے جس پر خود مخاطب کا طرز عمل شاہد ہے۔ فرمایا کہ تمہارے شرک کے خلاف دلیل ڈھونڈھنے کے لئے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہارے باہمی طرز عمل ہی کو اللہ تعالیٰ تمہارے آگے بطور مثال پیش کرتا ہے۔ تم بتائو کہ جور زق و فضل ہم نے تم کو دے رکھا ہے اپنے غلاموں کے لئے بھی تم اس میں اس طرح کی حصہ داری تسلیم کرتے ہو کہ وہ اور تم اس میں برابر شریک ہوجائیں اور تم ان کا بھی اسی طرح لحاظ کرو جس طرح اپنا اور اپنے حق داروں کا لحاظ کرتے ہو ! لفط خوف یہاں لحاظ کرنے کے مفہوم میں ہے۔ یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس پر ہم کہیں بحث کر آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے حقوق میں اپنے مملوکوں کے لئے مساوی درجے کی حصہ داری تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہو، درآنحالیکہ جو کچھ تمہارے پاس ہے ہمارا عطا کردہ ہے، تو خدا کے حقوق میں تم اس کی مخلوقات کو کس طرح شریک بنائے دے رہے ہو ! یہ تو نہایت بھونڈی بات ہوئی کہ جس چیز کو تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے اس کو خدا کے لئے پسند کرتے ہو، حالانکہ تمام اعلیٰ صفات اور برتر حقوق کا اصلی حقدار آسمانوں اور زمین میں وہی ہے۔ شرک کی تردید میں یہ اسی طرح کی نفسیاتی دلیل ہے جس طرح کی دلیل دوسرے مقام میں یوں بیان ہوء ہے کہ یہ مشرکین خود تو لڑکیوں کو ناپسند کرتے اور اپنی طرف ان کی نسبت سے بھی شرماتے ہیں، لیکن اللہ کے لئے انہوں نے بہت سی بیٹیاں فرض کر رکھی ہیں۔ اس میں دلیل کا اصلی پہلو یہ ہے کہ شرک کے خلاف انفس و آفاق اور عقل و فطرت میں جو شواہد و دلائل موجود ہیں وہ تو ہیں ہی، ان سے قطع نظریہ دلیل بھی اس کے خلاف موجود ہے کہ مشرکین جس چیز کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے اس کو خدا کے ساتھ جوڑتے ہیں، حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس بات کو اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں اس کو خدا کے لئے بدرجہ اولیٰ ناپسند کرتے۔ ’ وکذلک نفصل الایات لقوم یعقلون۔ اس دلیل نے وضاحت مقصد کی گویا تکمیل کردی، اس وجہ سے فرمایا کہ ہم اس طرح اپنے دلائل کی تفصیل بیان کر رہے ہیں لیکن یہ دلائل کا رآمد ان کے لئے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی عقلوں پر تالے چڑھا رکھے ہوں ان کے لئے یہ دلیلیں کیا کارآمد ہوسکتی ہیں !