تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 29
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿29﴾
- بَلِبلکہ
- اتَّبَعَپیروی کی
- الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓاجن لوگوں نے ظلم کیا (ظالم)
- اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات
- بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚعلم کے بغیر (بےجانے)
- فَمَنْ يَّهْدِيْتو کون ہدایت دے گا
- مَنْجسے
- اَضَلَّ اللّٰهُ ۭگمراہ کرے اللہ
- وَمَااور نہیں
- لَهُمْان کے لیے
- مِّنْکوئی
- نّٰصِرِيْنَمددگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ اپنی جانوں پر ان ظلم کرنے والوں نے بےدلیل اپنی بدعات کی پیروی کر رکھی ہے تو ان کو کون ہدایت دے سکتا ہے جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور ان کا کوئی بھی مدد کرنے والا نہیں بنے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بل اتبع الذین غلموا ھوائھم بغیر علم فمن یھدی من اضل اللہ وما لھم من نصرین (29)
الذین ظلموا ‘ سے مراد یہی مشرکین ہیں جنہوں نے شرک جیسے ’ ظلم عظیم ‘ کا ارتکاب کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ عقل سے رہنمائی حاصل کرنے والی مخلوق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں اور بدعات کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ ’ بغیر علم ‘ میں ’ علم ‘ سے مراد دلیل و حجت ہے۔ یعنی اس پیروی میں انہوں نے علم اور دلیل کو رہنما نہیں بنایا ہے بلکہ آنکھ بند کرکے خواہشوں کے پیچھے چل پڑے ہیں۔
’ فمن یھدی من اضل اللہ۔ ‘ یعنی جو اللہ کے قانون کی زد میں آکر گمراہی ہوچکے ہوں بھلا ان کو کون راہ یاب کرسکتا ہے ! اللہ نے رہنمائی کے لئے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے لیکن بہت سے شامت زدہ عقل کے بجائے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے لئے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے لیکن بہت سے شامت زدہ عقل کے بجائے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ ایسے کج عقلوں کو خدا ان کی خواہشوں کے پیچھے آوارہ گردی کے لئے چھوڑ دیا کرتا ہے۔ ’ وما لھم من نصرین ‘۔ پھر وہ اسی آوارہ گردی میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ نہ اس دنیا میں ان کو اس ضلالت سے نکالنے میں کوئی مددگار بنتا اور نہ آخرت میں ان کو ان کے مہلک انجام سے بچانے میں کوئی ان کا مددگار بن سکے گا۔