Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 33

  1. وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ﴿33﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. مَسَّ النَّاسَپہنچتی ہے لوگوں کو
    3. ضُرٌّکوئی تکلیف
    4. دَعَوْاوہ پکارتے ہیں
    5. رَبَّهُمْاپنے رب کو
    6. مُّنِيْبِيْنَرجوع کرتے ہوئے
    7. اِلَيْهِاس کی طرف
    8. ثُمَّ اِذَآپھر جب
    9. اَذَاقَهُمْوہ ان کو چکھا دیتا ہے
    10. مِّنْهُاپنی طرف سے
    11. رَحْمَةًرحمت
    12. اِذَاناگہاں
    13. فَرِيْقٌایک گروہ
    14. مِّنْهُمْان میں سے
    15. بِرَبِّهِمْاپنے رب کے ساتھ
    16. يُشْرِكُوْنَشرک کرنے لگتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب لوگوں کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی طرف متوجہ ہو کر۔ پھر جب اللہ ان کو اپنی رحمت سے شادکام کردیتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذا من الناس ضردعوا ربھم منیبین الیہ ثم اذا اذاقھم منہ رحمتہ اذا فریق منھم بربھم یشرکون۔ لیکفروا بما اتینھم فتمتوا ھوت تعلمون (33۔ 34) یہ مشرکین کو براہ راست دھمکی ہے کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کسی گرداب میں پھنستے ہیں تب تو نہایت نیاز مندی سے اور تذلل کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں لیکن جب خدا انکو اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے تو پھر یہ خدا کو بھول کر اپنے انہی معبودوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں جن کی انہوں نے شریک بنا رکھا ہے۔ یہ مضمون پیچھے مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور آگے سورة لقمان کی آیت 32 میں ایک نئے اسلوب سے آئے گا۔ ’ لیکفروا بما اتینھم فتمتعوا فسوف تعلمون۔ ‘ یہ مضون بعینہ عنکبوت کی آیت 66 میں بھی گزر چکا ہے۔ یعنی وہ نعمت تو پاتے ہیں خدا سے لیکن گن گاتے ہیں دوسروں کے اور اس طرح خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ اس کے بعد نہایت تند لہجہ میں مخاطب کرکے فرمایا کہ اچھا کچھ دن ہماری نعمتوں سے اپنی اس ناسپاسی و ناشکری کے باوجود، فائدہ اٹھا لو، عنقریب تمہاری اس حرکت کا خمیازہ تمہارے سامنے آنے والا ہے۔