تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 32
مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿32﴾
- مِنَ(ان میں) سے
- الَّذِيْنَجنہوں نے
- فَرَّقُوْاٹکڑے ٹکڑے کرلیا
- دِيْنَهُمْاپنا دین
- وَكَانُوْااور ہوگئے
- شِيَعًا ۭفرقے فرقے
- كُلُّ حِزْبٍۢسب گروہ
- بِمَااس پر
- لَدَيْهِمْان کے پاس
- فَرِحُوْنَخوش ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ گروہ بن گئے۔ ہر پارٹی بس اسی پر مگن ہے جو اس کے اپنے پاس ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
من الناس فرقوا دینھم وکانوا شیعا ط کل حزب بما لدیھم فرحون (32)
یہ انہی مشرکین کی تفصیل ہے جن کے طریقہ سے بچنے کی اوپر والی آیت میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ اس وضاحت سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ اس کے اول مصداق قریش ہیں جنہوں نے نے اس دین کو، جوان کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے ذریعے سے ملاء شرک میں مبتلا ہو کر، بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو ایک خدا کی تعلیم دی تھی لیکن انہوں نے سینکڑوں خدا بنا ڈالے اور ہر گروہ اپنے اپنے معبود پر اس طرح فدا تھا کہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ مسلمانوں کو یہ ہدایت اس لئے نہیں فرمائی گئی کہ ان میں سے کسی نے مشرکین کے ساتھ جا ملنے کا اندیشہ تھا بلکہ یہ شرک اور مشرکین سے بیزاری کا اظہار ہے جو مشرکین کے بجائے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے۔ گویا مشرکین اپنی ہٹ دھرمی کے سبب سے لائق خطاب نہیں رہے اس وجہ سے بات اپنوں کو مخاطب کرکے کہہ دی گئی۔