Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 38

  1. فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿38﴾

    1. فَاٰتِپس دو تم
    2. ذَا الْقُرْبٰىقرابت دار
    3. حَقَّهٗاس کا حق
    4. وَالْمِسْكِيْنَاور محتاج
    5. وَابْنَ السَّبِيْلِ ۭاور مسافر
    6. ذٰلِكَیہ
    7. خَيْرٌبہتر
    8. لِّلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے جو
    9. يُرِيْدُوْنَوہ چاہتے ہیں
    10. وَجْهَ اللّٰهِ ۡاللہ کی رضا
    11. وَاُولٰٓئِكَاور وہی لوگ
    12. هُمُوہ
    13. الْمُفْلِحُوْنَفلاح پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس قرابتدار کو اور مسکین و مسافر کو اس کا حق دو۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا کے طالب ہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل ذلک خیر للذین یریدون وجہ اللہ واولئک ھم الفلحون (38) اوپر آیت 31 میں دین فطرت کے اولین رکن نماز کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بعض مناسب مقام تنبہیات آگئی تھیں جن میں آخری تنبیہ یہ تھی کہ جس کو رزق کی فراخی حاصل ہو تو اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کو اب وجد کی وراثت یا اپنے فضل و کمال کا ثمرہ سمجھ کر اس پر اترائے بلکہ اس کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس آیت میں اس شکرگزاری کا طریقہ بتا دیا کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے مال میں سے قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دے۔ ’ حقہ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ رزق کو کشادگی عطا فرماتا ہے اس کے مال میں درحقیقت دوسروں کے حقوق بھی ہوتے ہیں جو اس کی امانت میں ہوتے ہیں، اس وجہ سے یہ اس کا فرض ہے کہ وہ ان حقوق کو ادا کرے۔ اگر اس نے اس میں کوتاہی کی تو وہ حقوق کا غصب کرنے والا ٹھہرے گا۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی رضا کے طالب ہیں ان کے لئے یہی طریقہ بہتر ہے اور آخرت میں وہی فلاح حاصل کرنے والے بنیں گے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ اپنے مال کو فخرو غرور یا عیش و تنعم یا مال پروری کا ذریعہ بنائیں گے ان کا مال خدا کے ہاں موجب وبال و خسران ہوگا۔