Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 37

  1. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿37﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَمْ يَرَوْاانہوں نے نہیں دیکھا
    3. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    4. يَبْسُطُکشادہ کرتا ہے
    5. الرِّزْقَرزق
    6. لِمَنْجس کے لیے
    7. يَّشَآءُوہ چاہتا ہے
    8. وَيَقْدِر ُ ۭاور تنگ کرتا ہے
    9. اِنَّبیشک
    10. فِيْ ذٰلِكَاس میں
    11. لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں
    12. لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لئے چاہتا اور تنگ کردیتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان والے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اولم یروا ان اللہ یبسطا الرزق لمن یشاء و یقدر ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (37) یعنی کیا ان لوگوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ رزق کی فراخی ہو یا تنگی دونوں اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو تنگ کردیتا ہے، جس کے لئے چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے۔ اس کا یہ چاہنا تمام تر اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے نہ تو کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مایوس ہوا اور نہ یہ جائز ہے کہ وہ اترانے اور اکڑنے والا بنے۔ اترانے کا حق اس کو ہے جس کا رزق اس کے اپنے اختیار میں ہو اور خدا سے مایوس وہ ہو جو اپنے لئے کوئی اور دروازہ تلاش کرسکے۔ جب ان دونوں میں سے کوئی بات بھی ممکن نہیں ہے تو صحیح رویہ صرف یہی ہے کہ بندو نعمت پر شکر کرے اور آزمائش پر صبر۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں ہی چیزوں سے بندے کا امتحان کرتا ہے اور یہ آخرت میں کھلے گا کہ کون اس کے امتحان میں کامیاب ہوا اور کون ناکام ! فرمایا کہ اگر لوگ اس حقیقت پر غور کریں تو اس میں ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لانے والے ہیں۔ اس میں سب سے بڑی نشانی تو اس بات کی ہے کہ اس کائنات کے تمام امور اللہ وحدہ، لاشریک ہی کے اختیار میں ہیں۔ جس طرح موت اور زندگی پر کسی کو اختیار نہیں ہے اسی طرح رزق کی تنگی و کشادگی پر بھی کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ دوسری نشانی اس بات کی ہے کہ اس دنیا میں رزق کی کشادگی نہ کسی کی کامیابی کی دلیل ہے نہ اس کی تنگی کسی کی ناکامی کی، بلکہ یہ دونوں ہی چیزیں بندے کے امتحان کے لئے ہیں۔ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ آخرت میں ہوگا۔ تیسری نشانی اس میں یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں ہر وقت بندے کے شکر اور صبر کا امتحان ہوتا رہتا ہے اور انسان کے تمام اعلیٰ اوصاف کا سرچشمہ یہی دو صفتیں ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔