تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 45
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ﴿45﴾
- لِيَجْزِيَتاکہ جزا دے وہ
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاان لوگوں کو جو ایمان لائے
- وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِاور انہوں نے اچھے عمل کیے
- مِنْسے
- فَضْلِهٖ ۭاپنا فضل
- اِنَّهٗبیشک وہ
- لَا يُحِبُّپسند نہیں کرتا
- الْكٰفِرِيْنَکافر (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ اللہ کافروں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لیجزی الذین امنوا وعملوا لصلحت من فضلہ، ط انہ لا یجب الکفرین (45)
اس کا تعلق اوپر والی آیت من قبل ان یاتی یوم سے ہے، یعنی اس دن کے آنے کا صلی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو اپنے فضل سے صلہ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا اصل مقصودِ اہل ایمان کو جزا دینا ہے کفار۔ کو سزا دینا اس کی اصل غایب نہیں بلکہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ من فضیلہ کے لفظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اہل ایمان کو جو صلہ ملے گا وہ محض ان کے اعمال کے پیمانے سے تول کر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے مطابق ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل ایسی چیز ہے کہ اس کا اندازہ ہم اپنے پیمانوں اور قیاسوں سے نہیں کرسکتے۔
’ انہ لا یحب الکفرین ‘ اس ٹکڑے میں کفر و اہلِ کفر کے لئے جو نفرت و کراہت چھپی ہوئی ہے قلم اس کی تعبیر سے قاصر ہے۔ اہل ایمان کے درجے و مرتبے کا اندازہ کرنے کے لئے تو تنہا یہی بات کافی ہے کہ آخرت کا ظہور ہی تمام تر ان کی داد اور ان کے انعام کے لئے ہے۔ رہے اہل کفر تو یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف یہ فرما کر ان کا ذکر ختم کردیا کہ اللہ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ ظاہ رہے کہ جب اللہ ان کو پسند نہیں کرتا تو وہ جس جہنم میں بھی جا کر گریں خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔