تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 52
فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ﴿52﴾
- فَاِنَّكَپس بیشک آپ
- لَا تُسْمِعُنہیں سنا سکتے
- الْمَوْتٰىمردوں
- وَلَااور نہیں
- تُسْمِعُسنا سکتے
- الصُّمَّبہروں
- الدُّعَآءَآواز
- اِذَا وَلَّوْاجب وہ پھرجائیں
- مُدْبِرِيْنَپیٹھ دے کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو تم نہ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے اور نہ بہروں کو سنا سکتے جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جا رہے ہوں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فانک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الداء اذا والو مدبرین وما انت بھذا العمی عن ضللتھم ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (52۔ 53)
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایسے متلون مزاج اور بےثبات ہیں کہ آج میں کچھ اور آن میں کچھ ہیں۔ ذرا میں مایوس اور ذرا میں مغرور ہوتے ہیں۔ خدا کی بیشمار نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل خدا پر ہیں جمرتے، وہ روحانی و عقلی اعتبار سے زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں، سننے والے نہیں بلکہ بہرے ہیں، دیکھنے والے نہیں بلکہ اندھے ہیں۔ ایسے مردوں، بہروں اور اندھوں کو سنانا، سمجھانا نہ تمہارے بس میں ہے اور نہ اس کی تمہارے اوپر کوئی ذمہ داری ہے۔ ولا تسمع الصم الدعاء اذ اولو مدبراین میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہروں سے بھی کچھ سننے سمجھنے کی توقع کی جاسکتی ہے بشرطیکہ وہ پکارنے والے کی طرف متوجہ ہوں، لیکن ان بہروں سے کس خیر کی امید ہوسکتی ہے جو پیٹھ پھیر کے بھاگے جا رہے ہوں ! وما انتبھذ العمی عن ضللتھم ‘ میں ’ عن ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ لفظ ہدایت یہاں ’ صرف ‘ یاس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضم ہے۔ یعنی تم اندھوں کو ان کی غلط روی سے موڑ کر راہ راست پر نہیں لاسکتے۔ ’ ان تسمع الا من یومن بایتنا ‘ یہاں آیات سے مراد آفاق وانفس کی رو نشانیاں ہیں جن کی طرف پوری تفصیل کے ساتھ پیچھے توجہ دلائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری باتیں اگر کارگر ہوسکتی ہیں تو ان لوگوں پر کار کر ہوسکتی ہیں جو خدا کی قدرت، رحمت اور اس کے عدل کی ان نشانیوں کو مانتے ہوں جو آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں، جو ان کو نہ نامنتے ہوں ان کے آگے سارا وعظ بھینس کے آگے بین بجانے کے حکم میں داخل ہے۔ ’ فھم مسلمون ‘ یعنی لوگ آفاق وانفس کی شنانیوں کو دیکھتے، سمجھتے اور مانتے ہیں وہ بیشک تمہاری بات سنیں سمجھیں گے اور تمہاری دعوت پر اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالہ کردیں گے۔