تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 51
وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ﴿51﴾
- وَلَئِنْاور اگر
- اَرْسَلْنَاہم بھیجیں
- رِيْحًاہوا
- فَرَاَوْهُپھر وہ اسے دیکھیں
- مُصْفَرًّازرد شدہ
- لَّظَلُّوْاضرور ہوجائیں
- مِنْۢ بَعْدِهٖاس کے بعد
- يَكْفُرُوْنَناشکری کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر ہم دوسری ہوا بھیج دیں پس وہ کھیتوں کو زرد ہوئی دیکھیں تو اس کے بعد وہ کفر کرنے والے بن کر رہ جائیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولئن ارسلنا ریحا ذراوہ مصفرا الظلوا من بعدہ یکفرون (51)
یہ اوپر کی آیات 48۔ 49 پر استدراک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا عام چال یہ ہے کہ ذرا دیر میں مایوس ذرا دیر میں مگن ہوجاتے ہیں۔ بارش میں ذرا توقف ہوجائے تو سب کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں، بارش ہوجائے تو ناچنے کو دنے لگتے ہیں اور اگر بارش کے بعد ہم کوئی ناسازگار ہوا بھیج دیں اور وہ اپنی اپجی ہوئی فصلوں کا رنگ زرد پڑتے دیکھیں تو وہی ناشکری ومایوسی ان پر پھرجائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے متلون مزاج ہیں ان سے کسی خیز کی امید نہ رکھو، تمہاری باتیں صرف ان کے دلوں میں اتریں گی جو نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کر مزاج رکھتے ہیں۔
لفظ ’ ریاح ‘ اور ریح کے فرق پر ہم اس کے محل میں بحث کرچکتے ہیں۔ مقدم الذکر کا غالب استعمال سازگار اور موسمی ہوائوں کے لئے اور موخر الذکر کا عام استعمال آفت لانے والی ہوا کے لئے ہوتا ہے۔ قراوہ میں ضمیر کو مرجع زرع یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ ہوگا جس کا قرینہ اوپر والی آیت میں موجود ہے اس لئے کہ یحی الارض بعد موتھا کا مفہوم زمین کا سبزہ اور نباتات سے معمور ہوجانا ہے۔