تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 19
وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ع﴿19﴾
- وَاقْصِدْاور میانہ روی کر
- فِيْ مَشْيِكَاپنی رفتار میں
- وَاغْضُضْاور پست کر
- مِنْ صَوْتِكَ ۭاپنی آواز کو
- اِنَّبیشک
- اَنْكَرَسب سے ناپسندیدہ
- الْاَصْوَاتِآوازیں
- لَصَوْتُآواز
- الْحَمِيْرِگدھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ۔ بیشک سب سے زیادہ مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واقصد فی مشیک واغضض من صوتک ط ان انکر الاصوات لصوت الحمیر (19)
اوپر کی باتیں نہی کے اسلوب میں ہیں۔ اب یہ اسی تواضع و فروتنی کی تعلیم مثبت انداز میں دی ہے کہ اپنی چال پر اکڑ کے بجائے فروتنی و تواضع اور اپنی آواز میں کرختگی اور خشونت کی جگہ نرمی اور لینت پیدا کرو۔ ’ من ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جب خالق نے انسان کو ایک ہی قسم کی آواز پر نہیں پیدا کیا ہے بلکہ اس کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ اس کو وہ پست بھی کرسکتا ہے اور بلند بھی تو موقع و محل کے مطابق وہ اس صلاحیت کو استعمال کرے، گدھے کی طرح ہمیشہ اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑنے ہی کی کوشش نہ کرو، ’ ان انکرالا صوات لصوت الحمیر ‘ کا ٹکڑا یہاں کرخت اور سخت لب و لہجہ سے نفرت دلانے کے لئے ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کو حسن بیان اور حسن کلام کی نعمت سے نوازا ہے کہ تو وہ اس مقام کو چھوڑ کر گدھوں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش کیوں کرے ! یہ بلبل کی بدقسمتی ہے کہ وہ زاغ و زعن کو ہمنوائی کرے ! !
لقمان کی یہ نصیحتی اگرچہ ہر شخص کے لئے اپنے اندر یکساں خیرو برکت رکھتی ہیں لیکن ان لوگوں کے لئے یہ خاص ہمیت رکھنے والی ہیں جن کی قیادت و سربراہی اور امارت و حکومت کا مقام حاصل ہو۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، لقمان صرف ایک حکیم نہیں بلکہ ایک حکمران حکیم تھے۔ ان کو اپنی قوم کی سربراہی حاصل تھی اور یہ نصیحتیں اپنے بیٹے کو انہوں نے سرداری و قیادت کی ذمہ داریاں سمجھانے کے لئے کی ہیں۔ یہ اگرچہ نہیں تھے لیکن ان کو حضرت دائود ؑ سے فی الجملہ مشابہت ہے۔