Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 18

  1. وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ﴿18﴾

    1. وَلَا تُصَعِّرْاور توٹیڑھا نہ کر
    2. خَدَّكَاپنا رخسار
    3. لِلنَّاسِلوگوں سے
    4. وَلَا تَمْشِاور نہ چل تو
    5. فِي الْاَرْضِزمین میں
    6. مَرَحًا ۭاتراتا
    7. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    8. لَا يُحِبُّپسند نہیں کرتا
    9. كُلَّہر۔ کسی
    10. مُخْتَالٍاترانے والا
    11. فَخُوْرٍخود پسند
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور لوگوں سے بےرخی نہ کر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولا تصعر خدک للناس ولا تمش فی الارض مرحا ط ان اللہ لایحب کل مختال فخور (18) ’ تصعیر خد ‘ کے معنی ہیں بربنائے غرور وتکبر لوگوں سے بےرخی و بےپروائی اختیار کرنا۔ ’ للناس ‘ ہے مراد عوام الناس خصوصاً غریا وفقراء میں جن کو امراء واغنیا و حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے موجبات بیان ہوئے ہں۔ اب یہ ان باتوں کا ذکر آرہا ہے جو اس شکر گزاری کے منافی ہیں۔ شکر کا مظہر جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہوچکی ہے، اخبات و تواضع ہے اور اس کا ضد غرور وتکبر ہے۔ جو لوگ سفلہ اور کم ظرف ہوتے ہیں وہ نعمت پاکر اکڑنے اور اترانے والے بن جاتے ہیں اور ان لوگوں کو نہایت حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں جو ان کے ہم سر نہیں ہوتے۔ لقمان نے اس روش کے اختیار کرنے سے اپنے فرزند کو روکا۔ ’ ولاتمش فی الارض مرحا ‘ یہ آیت بعینہ سورة نبی اسرائیل میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی ہے کہ ’ لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولا ‘۔ 37‘ یعنی کوئی کتنا ہی اکڑ کے اور سر اونچا کرکے چلے لیکن اسے یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ نہ وہ زمین کو پھاڑ سکتا اور نہ وہ پہاڑ کی بلندی کو پہنچ سکتا تو جس خدا کی قدرت و عظمت کے یہ آثار ہر شخص دیکھ رہا ہے اس کی خدائی میں اکڑنے اور اترانے کے کیا معنی ! آدمی کا غرور اس کے چہرے اور اس کی گردن سے بھی نمایاں ہوتا ہے اور اس کی چال سے بھی، لقمان نے ان دونوں ہی چیزوں میں غرور کی روش اختیار کرنے سے اپنے بیٹے کو روکا۔ ’ ان اللہ لا یحب کل مختال فخور۔ ‘ یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی اکڑنے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ جن کو مال و جاہ حاصل ہوا اور وہ اس کو اللہ تعالیٰ کے انعام کے بجائے اپنی قابلیت و استحقاق کو کرشمہ سمجھ بیٹھیں ان کے اندر شکر کے بجائے لازماً فخر و غرور کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ لقمان نے اسی خطرے سے اپنے بیٹے کا آگاہ فرمایا ہے کہ نعمت کو اللہ کا انعام اور اس کا امتحان سمجھنا، اس کے سبب سے مغرور ہو کر اپنے کو خدا کے غضب کا مستحق نہ بنا لینا۔