Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 21

  1. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿21﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. قِيْلَکہا جائے
    3. لَهُمُان سے
    4. اتَّبِعُوْاتم پیروی کرو
    5. مَآ اَنْزَلَجو نازل کیا
    6. اللّٰهُاللہ
    7. قَالُوْاوہ کہتے ہیں
    8. بَلْ نَتَّبِعُبلکہ ہم پیروی کریں گے
    9. مَا وَجَدْنَاجو ہم نے پایا
    10. عَلَيْهِاس پر
    11. اٰبَآءَنَا ۭاپنے باپ دادا
    12. اَوَلَوْکیا اگر
    13. كَانَہو
    14. الشَّيْطٰنُشیطان
    15. يَدْعُوْهُمْان کو بلاتا
    16. اِلٰىطرف
    17. عَذَابِعذاب
    18. السَّعِيْرِدوزخ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس چیز کی پیروی کر وجو اللہ نے اتاری ہے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کریں گے، بلکہ اسی طریقہ کی پیروی کرتے رہیں گے جس پر ہم نے اپنے آباد اجداد کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلا رہا ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ اباء نا اولو کا نا الشیطن یدعوھم الی عذاب السعیر (21) یہ ان کے مجادلہ بلا علم کی تفصیل ہے کہ جب ان کو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ہم نے باپ دادا سے جو طریقہ پایا ہے ہم اسی پر چلتے رہیں گے، اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ اختیار کرنے کے لئے ہم تیار نہیں ہیں۔ فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ کیا اس شکل میں بھی یہ اس روش پر جامد رہیں گے جب کہ شیطان ان کو تقلید آباء کے اس تعصب میں مبتلا کرکے ان کو جہنم کی طرف بلا رہا ہو ! مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کی صحت و صداقت کی مجرد یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ وہ آباء و اجداد سے چلی آرہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جس طرح بےسوچے سمجھے تم باپ دادا کے طریقہ کو دین بنائے بیٹھے ہو اسی طرح تمہارے باپ دادا نے بھی بےسوچے سمجھے اگلوں سے جو پایا ہو اس کو دین بنا لیا ہو۔ اس وجہ سے دانش مندی اور حق پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی جس کتاب کی تم کو دعوت دی جا رہی ہے اس کو سنو، اس پر غور کرو اور اس کے دلائل کی روشنی میں اپنے عقائد و اعمال کا جائزہ لو۔ ایسا نہ ہو کہ اس اندھے بہرے تعصب میں مبتلا ہو کر شیطان کی پیروی میں جہنم میں جاگرو۔ یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ قومی دین، قومی تہذیب اور قومی روایات کے نعروں میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ جو لوگ یہ نعرے بلند کرتے ہیں وہ قومی تہذیب و روایات کے محافظ سمجھے جاتے ہیں اور عوام ان کے نعروں سے اس طرح مسحور ہوجاتے ہیں کہ اس کے خلاف وہ کوئی بات بھی سننے کے روادار نہیں ہوتے، خواہ وہ کتنی ہی بڑی حقیقت ہو۔ میرے نزدیک یدعوھم میں ضمیر مفعول کا مرجع اباء نہی بلکہ خود اس قول کے قائلین ہیں۔