Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 22

  1. وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴿22﴾

    1. وَمَنْاور جو
    2. يُّسْلِمْجھکا دے
    3. وَجْهَهٗٓاپنا چہرہ
    4. اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
    5. وَهُوَاور وہ
    6. مُحْسِنٌنیکو کار
    7. فَقَدِ اسْتَمْسَكَتو بیشک اس نے تھاما
    8. بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۭحلقہ مضبوط
    9. وَاِلَى اللّٰهِاور اللہ کی طرف
    10. عَاقِبَةُانتہا
    11. الْاُمُوْرِتمام کام (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو اپنا رخ فرمانبردار انہ اللہ کی طرف کرے گا اور وہ خوب کار بھی ہے تو اس نے بیشک مضبوط رسی تھامی۔ اور انجام کار تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن یسلم وجھہ الی اللہ وھو محسن فقد استمسک بالعروۃ الوثقی والی اللہ عاقبۃ الامور (22) ’ اسلم ‘ کا صلہ ’ ل ‘ کے ساتھ بھی قرآن میں آیا ہے اور ’ الی ‘ کے ساتھ بھی۔ دونوں کے مواقع استعمال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی صورت میں تو یہ کامل تفویض و سپردگی کے مفہوم میں آیا ہے جو اسلام کی اصل حقیقت ہے۔ دوسری صورت میں تو یہ کامل تفویض و سپردگی کے مفہوم میں آیا ہے جو اسلام کی اصل حقیقت ہے۔ دوسری صورت میں جیسا کہ یہاں ہے یہ نیاز مندانہ متوجہ ہونے کے مفہوم میں آیا ہے۔ یہ متوجہ ہونا حقیقی بھی ہوسکتا ہے اور غیر حقیقی بھی اس وجہ سے اس کے ساتھ محسن کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’ احسان ‘ کے معنی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہں، کسی کام کا کمال درجہ خوبی و اخلاص کے ساتھ کرنے کے آتے ہیں۔ اس قید کے لگ جانے سے لفظ ’ اسلام ‘ کا مفہوم یہاں متعین ہوگیا کہ آدمی خدا کی طرف متوجہ ہو اور کمال درجہ خوبی و یکسوئی اور پوری وفا داری و جان نثاری کے ساتھ متوجہ ہو۔ مشرکین و منافقین کی طرح نہیں کہ نام تو خدا کا لیتے ہیں لیکن اس کی خدائی اور اس کے حقوق میں دوسروں کو بھی شریک کیے بیٹھے ہیں اور ان کے نزدیک اصلی اہمیت خدا اور اس کے حقوق میں دوسروں کو بھی شریک کیے بیٹھے ہیں اور ان کے نزدیک اصلی اہمیت خدا اور اس کے احکام کی نہیں بلکہ اس کے شریکوں اور ان سے متعلق رسوم داد بام کی ہے۔ یہ آیت تقلید ِ آباء کے علم برداروں اور شرک کی حمایت میں لڑنے والوں کے جواب میں ارشاد ہوئی ہے کہ نہ باپ دادا کے طریقہ کی اندھی تقلید کوئی کام آنے والی چیز ہے اور نہ دیویوں دیوتائوں کا سہارا کچھ کام آنے والا بنے گا۔ البتہ جو لوگ پورے اخلاص اور حسن عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں انہوں نے اپنے رب کے ساتھ وابستہ کرنے والی ایک مضبوط رسی تھام لی ہے جو ان کے لئے خدا کے ساتھ تعلق و توصل کا ایک محکم ذریعہ ہوگی اور یہ کبھی ٹوٹنے والی نہیں ہے۔ ’ والی اللہ عاقبۃ الامور۔ ‘ یہ تنبیہ ہے اور بڑی ہی سخت تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس رسی کے سوا دوسری رسیاں جو لوگوں نے تھام رکھی ہیں، وہ بھی ان کے لئے کچھ کام آنے والی بن سکیں گی۔ ان جھوٹے سہاروں میں سے کوئی بھی کام آنے والا نہیں ہے اس لئے کہ تمام امور بالآخر اللہ ہی کے آگے پیش ہوں گے، کوئی دوسرا مولیٰ و مرجع بننے والا نہیں ہے کہ اس کا سہارا کچھ کام آسکے۔