Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 32

  1. وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ﴿32﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. غَشِيَهُمْان پر چھا جاتی ہے
    3. مَّوْجٌموج
    4. كَالظُّلَلِسائبانوں کی طرح
    5. دَعَوُا اللّٰهَوہ اللہ کو پکارتے ہیں
    6. مُخْلِصِيْنَخالص کر کے
    7. لَهُ الدِّيْنَ ڬاس کے لیے دین (عبادت)
    8. فَلَمَّاپھر جب
    9. نَجّٰىهُمْاس نے انہیں بچا لیا
    10. اِلَى الْبَرِّخشکی کی طرف
    11. فَمِنْهُمْتو ان میں کوئی
    12. مُّقْتَصِدٌ ۭمیانہ رو
    13. وَمَا يَجْحَدُاور انکار نہیں کرتا
    14. بِاٰيٰتِنَآہماری آیتوں کا
    15. اِلَّاسوائے
    16. كُلُّہر
    17. خَتَّارٍعہد شکن
    18. كَفُوْرٍناشکرا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان کو ڈھانک لیتی ہیں وہ اللہ کو پکارتے ہیں خالص اسی کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے، پس جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف کردیتا ہے تو ان میں کچھ راہ پر رہتے ہیں اور باقی بےراہ ہوجاتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار بس وہی لوگ کرتے ہیں جو بالکل بد عہد اور ناشکرے ہوتی ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذ غشیھم موج کا لطل دعو اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجھم الی البر فمنھم مقتصدا وما یجحد بایتنا الا کل ختار کفور (32) یہ اوپر کے اجمال کی تفصیل ہے کہ کشتی کے مسافروں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب تک کشی رواں دواں رہتی ہے اس وقت تک ان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ یہ خدا کی چلائی ہوئی سازگار ہوا کا کرشمہ ہے کہ وہ سمندر کے سینہ پر سوار اس سکون و راحت کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ بلکہ وہ اس کو اپنی ذہنی و قابیت کا کرشمہ سمجھتے ہیں اور خدا اور اس کی قدرت کو بھولے رہتے ہیں۔ لیکن جب دفعتہ کسی گوشے سے طوفانی ہوائیں نمودار ہوتی ہیں اور سائبانوں کی مانند اٹھنے والی موجیں ان کو ڈھانک لیتی ہیں تب ان کو خدا یاد آتا ہے اور وہ سو سو طرح اس سے فریاد کرتے اور آئندہ کے لئے اطاعت و وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔ لیکن جب کشتی ساحل پر پہنچ جاتی ہے تو ان میں سے تھوڑے اپنے عہد پر قائم رہنے اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے والے نکلتے ہیں، باقی غدارو ناشکرے نکلتے ہیں اور وہ سب خدا کی نشانیوں کو فراموش کرکے اپنی پچھلی سرمستیوں میں کھو جاتے ہیں۔ یہ قریش کے متمروین کو تنبیہ اور ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ اس وقت ان کے حالات سازگار ہیں اس وجہ سے خدا سے یہ بےنیاز ہیں اور جب ان کو خدا کی پکڑ سے ڈرایا جاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب کسی پکڑ میں آجائیں گے تو توبہ توبہ پکاریں گے۔ پھر جب ڈھیل مل جائے گی تو ان کو اپنا یہ عہد یاد بھی نہیں رہے گا۔ ایسے عہد شکن اور ناشکرے لوگ کسی نشانی سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ’ فنھم مقتصد کے بعد واکثرھم کفرون یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف ہیں۔ اس محذوف کو بعد کے ٹکڑے ’ وما یحجد بایتنا الا کل ختار کفور ‘ نے کھول دیا ہے۔ ’ مقتصد کے معنی راہ حق و عدل پر چلنے والے کے ہیں۔ ’ ومایجحد بایتینا الاکل ختار کفور۔ ’ ختار ‘ ختر ‘ سے مبالغہ ہے۔ اسکے معنی بدترین قسم کی بےوفائی و عہد شکنی کرنے والا۔ یہ الفاظ یہاں اوپر کے الفاظ صبار شکور۔۔۔ استعمال ہوئے ہیں۔ ’ صبار ‘ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ہر طرح کے حالات میں اپنے رب کے عہد پر استوار رہتے ہیں اور ’ ختار ‘ سے وہ لوگ مراد ہیں جو نعمت میں تو خدا سے بےپروا رہتے ہیں البتہ جب کسی مصیبت میں پھنستے ہیں تو خدا سے عہد و پیمان باندھتے ہیں، لیکن یہ عہد و پیمان ان کو صرف اسی وقت تک یاد رہتا ہے جب تک خدا کی پکڑ میں رہتے ہیں، اس سے چھوٹتے ہی وہ اپنے سارے عہد و پیمان کو طاق نسیاں پر رکھ دیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدترین قسم کی غداری ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے لئے نہ اللہ کی نعمت کی نشانیاں کارگر ہوتیں نہ کوئی تنبیہ ان پر اثر انداز ہوتی۔