Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 31. Luqman · Ayah 34

  1. اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ع﴿34﴾

    1. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    2. عِنْدَهٗاس کے پاس
    3. عِلْمُ السَّاعَةِ ۚقیامت کا علم
    4. وَيُنَزِّلُاور وہ نازل کرتا ہے
    5. الْغَيْثَ ۚبارش
    6. وَيَعْلَمُاور وہ جانتا ہے
    7. مَاجو
    8. فِي الْاَرْحَامِ ۭ(حاملہ کے) رحم میں
    9. وَمَااور نہیں
    10. تَدْرِيْجانتا
    11. نَفْسٌکوئی شخص
    12. مَّاذَاکیا
    13. تَكْسِبُوہ کرے گا
    14. غَدًا ۭکل
    15. وَمَا تَدْرِيْاور نہیں جانتا
    16. نَفْسٌۢکوئی شخص
    17. بِاَيِّکس
    18. اَرْضٍزمین
    19. تَمُوْتُ ۭوہ مرے گا
    20. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    21. عَلِيْمٌعلم والا
    22. خَبِيْرٌخبردار
Translation · Tadabbur-e-Quran
قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہوتا ہے، اور کسی کو بھی پتہ نہیں کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ علیم وخبیر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان اللہ عندہ علم الساعدِ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذ تکسب غدا ط وما تدری نفس بای ارض تموت، ان اللہ علیم خبیر (34) یہ ایک دفع دخلل مقدر یعنی ایک شبہ یا اعتراض کا برسر موقع جواب ہے۔ مخالفین کو جب قیامت سے ڈرایا جاتا تو وہ جھٹ یہ سوال کرتے کہ متی ھذا الوعد آخر یہ دھمکی کب پوری ہوگی ! اگر اس کو آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتی ! اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کے آنے کا وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اگر اس کا وقت معلوم نہیں ہے تو اس سے اس حقیقت کی نفی نہیں ہوجاتی۔ زندگی کی کتنی حقیقتیں ہیں جن کے وقت اور ان کی نوعیت کا کسی کو علم نہیں ہوتا لیکن کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کرتا۔ بارش ہوتی ہے اور اس کے ہونے سے کوئی انکار نہیں کرتا لیکن اس کے ٹھیک ٹھیک وقت، اس کی مقدار اور اس کے مقامات کو کون بتا سکتا ہے ! اس زمانے میں انسان نے، سائنس میں بڑی ترقی کرلی ہے اور حکومتیں لاکھوں کروڑوں ورپے محکمہ موسمیات پر خرچ کرتی ہیں لیکن ان محکموں کی پیشئن گوئیوں کی حقیقت ظن وتخمین سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی طرح ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ یہ عورت جنے گی، لیکن کیا جنے گی اور کب جنے گی اس کو خدا کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ علیٰ ہذا القیاس کسی کو یہ پتہ نہیں کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، کیا فرائض انجام دے گا اور کن حالات و مشاغل میں اس کی زندگی گزرے گی۔ بڑے بڑے ضابطہ پسندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑی احتیاط سے اپنے پروگرام بناتے ہیں اور بڑی وضع داری سے ان کو بنا ہتے ہیں لیکن عین وقت پر کوئی ایسی افتاد پیش آجاتی ہے کہ ان کا سارا پروگرام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ افراد تو درکنار حکومتوں کا حال یہ ہے کہ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی کرتی ہیں کہ اس سال ہم اپنے ملک میں اتنی گندم یا اتنا چاول پیدا کریں گے لیکن ذرا سا موسم کا تغیر و تبدل اور بارش کا اتار چڑھائو ساری منصوبہ بندی پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اور زیادہ دور کیوں جائیے، آدمی کے لئے خود اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ کتنی اہمیت رکھنے والا ہے لیکن کون جانتا ہے کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا اور کہاں دفن ہوگا ! آدمی گھر سے ہنسی خوشی کسی تقریب کے لئے نکلتا ہے اور وہاں سے اس کی لاش آتی ہے۔ پیدا کہاں ہوتا ہے، رہتا بستا کہیں ہے اور دفن کہیں ہوتا ہے۔ تو جب اتنی قریب کی ایسی واضح حقیقتوں کا علم بھی انسان کو نہیں ہے، حالانکہ یہ زندگی کے وہ حقائق ہیں جن کا کوئی بھی انکار ہیں کرسکتا، تو قیامت کا اگر وقت نہیں معلوم ہے تو وہ کیوں مشتبہ ہوجائے ! ان اللہ علیم خبیر ؛ اصلی علیم وخبیر اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی، لیکن وہ آئے گی ضرور۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے وقوع کی شہادت دے رہا ہے۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واللہ الحمد والمنۃ۔ اتوار۔ 8 بجے دن، 82 جولائی 1974؁ء، رحمان آباد۔