تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 1
الٓمّٓۚ﴿1﴾
- الف۔ لام۔ میم
Translation · Tadabbur-e-Quran
الم
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
الم تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العلمین (1۔ 2)
’ الم ‘ کی تحقیق سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید بھی بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔
’ تنزیل ‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اہتمام خاص کے ساتھ درجہ بدرجہ اتارنے کے ہیں۔ ’ الکتب ‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی اس کتاب کی تنزلی اللہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔ اس کے اللہ رب العلمین کی طرف سے ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لاریب فیہ کا یہی مفہوم ہم نے سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اس آیت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ قریش اور یہود دونوں کو سب سے زیادہ اختلاف آنحضرت ﷺ کے اس دعوے سے تھا کہ یہ کتاب آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جاتی ہے۔ اس دعوے کی وہ، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہوگا ’ افتراء ‘ قرار دیتے یعنی آنحضرت صلعم پر یہ الزام لگاتے کہ نعوذباللہ اس کتاب کو یہ تصنیف تو خود کرتے ہے لیکن ہمارے اوپر دھونس جمانے کے لے اس کو جھوٹ موٹ منسوب اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔