Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 10

  1. وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ﴿10﴾

    1. وَقَالُوْٓااور انہوں نے کہا
    2. ءَاِذَاکیا جب
    3. ضَلَلْنَاہم گم ہوجائیں گے
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. ءَاِنَّاکیا ہم
    6. لَفِيْتو۔ میں
    7. خَلْقٍ جَدِيْدٍنئی پیدائش
    8. بَلْبلکہ
    9. هُمْوہ
    10. بِلِقَآئِملاقات سے
    11. رَبِّهِمْاپنا رب
    12. كٰفِرُوْنَمنکر (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کہتے ہیں کہ کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے تو ہم پھر نئی خلقت میں آئیں گے ! بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے آگے پیشی کے منکر ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقالوا اذا ضللنافی الارضء انا لفی خلق جدید ط بل ھم بلقاء ربھم کفرون (10) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو سمع و بصر اور ادارک و تعقل کی جو صلاحیتیں بخشی تھیں وہ اس لئے بخشی تھیں کہ ان سے وہ کام لیں اور خدا کی قدرت و حکمت و رحمت و ربوبیت کے آثار کے مشاہدہ سے اس نتیجے تک پہنچیں کہ یہ دنیا عبث نہیں پیدا ہوئی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسکے بعد ایک ایسا دن آئے جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اپنے رب کے حضور حاضر کیا جائے اور وہ جزا یا سزا پائے لیکن اس انسان کی کج فہمی کا یہ حال ہے کہ جب اس کو قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو خدا کی قدرت کی اتنی شانیں دیکھنے کے باوجود، وہ طنز و استہزاء کے ساتھ یہ سوال کرتا ہے کہ کیا جب ہم گل سڑ کر زمین میں رل مل جائیں گے تو اس کے بعد از سرنو زندہ کیے جائیں گے ! ! ’ بل ھم بلقاء ربھم کفرون۔ یعنی یہ باتیں سب اوپر کے بہانے ہیں۔ آخر خدا کی اتنی شانیں اپنے وجود کے اندر اور باہر دیکھتے ہوئے یہ اتنے غبی کس طرح ہوسکتے ہیں کہ اپے دوبارہ پید اکیے جانے کو اس کی قدرت سے بعید سمجھیں ! اصل چیز یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کے آگے پیشی اور اعمال کی جواب دہی کے منکری ہیں، اس خیر کو تسلیم کرنا ان کے دلوں پر بہت شاق ہے اس وجہ سے اس سے گریز کے لئے یہ تمام عقلی استمالے اور شبہات گھڑے اور اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بسا اوقات انسان انکار تو کسی اور چیز کا کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے انکار کے لئے بہانہ کسی اور چیز کو بناتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ براہ راست اس حقیقت کے انکار کی کچھ زیادہ گنجائش وہ نہیں پاتا۔ مشرکینِ عرب کا حال بھی یہی تھا۔ وہ خدا کے قائل تھے اس وجہ سے خدا کے آگے پیشی کا صریح انکار ان کے لئے مشکل تھا لیکن اس کو ماننے سے جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں وہ ان کے لئے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے اس گریز کے لئے اول تو وہ قیامت پر اس قسم کے شبہات وارد کرتے تھے جس کی ایک مثال اوپر گزری اور بدرجہ ٔ آخر اس کو مانتے تبھی تھے تو اس کے نتائج سے بچائو کے لئے انہوں نے سرکاء و شفعار ایجاد کرلیے تھے۔