تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 11
قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ع﴿11﴾
- قُلْفرما دیں
- يَتَوَفّٰىكُمْتمہاری روح قبض کرتا ہے
- مَّلَكُ الْمَوْتِموت کا فرشتہ
- الَّذِيْوہ جو کہ
- وُكِّلَمقرر کیا گیا ہے
- بِكُمْتم پر
- ثُمَّپھر
- اِلٰى رَبِّكُمْتم اپنے رب کی طرف
- تُرْجَعُوْنَلوٹائے جاؤ گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ تمہاری جان وہ فرشتہ ہی قبض کرتا ہے جو تم پر مامور ہے پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جائو گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون (11)
یہ اوپر کی دونوں باتوں کا جواب ہے کہ جو مرتا ہے اس کو خدا کا وہ فرشتہ ہی وفات دیتا ہے جو خدا کی طرف سے ہر شخص پر مامور ہے۔ اس وجہ سے کوئی شخص مرنے کے بعد بھی خدا اور اس کے مامور ملائکہ کی نگاہیوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ ہر شخص کو اٹھا کھڑا کرے گا اور وہ اس کے مامور ملائکہ کی نگرانی میں ان کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔
’ ثم الی ربکم ترجعون۔ یعنی کوئی اس طمع خام میں بھی متبال نہ رہے کہ اس کی واپسی اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کی طرف ہونی ہے۔ اس دن ان شرکاء شفعاء کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔ سب کی پیشی اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سامنے ہی ہوگی اور وہی سب کا فیصلہ فرمائے گا۔
ولو تری اذا لمجرمون ناکسوا روسھم عند ربھم۔ طبنا ابصرنا وسمعان فارجعنا ولو تری میں خطاب آنحضرت ﷺ سے بھی ہوسکتا ہے اور عام مخاطبوں سے بھی۔ پہلی شکل میں یہ آیت تسلی کے سیاق و میں ہوگی اور دوسری صورت میں تہدید کے سیاق ہیں۔ اگر پہلی صورت اختیار کیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ آج تو یہ لوگ تمہارے آگے بہت اکڑ رہے اور برے تبختر و رعونت کے ساتھ قیامت اور خدا کے آگے پیشی کا انکار کر رہے ہیں لیکن اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے جب یہ تمام مجرمین سرنہیوڑائے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے تو… یہاں تمنی کا جواب مخدوف ہے اور اس حذب میں بڑی بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اس وقت ان کی بےبسی کا وہ منظر دیکھتے جس کا آج تصور بھی نہیں کرسکتے !
ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون۔ یعنی اس وقت ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ اعتراف ہوگا کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اچھی طرح دیکھ اور سن لیا۔ اب ہمیں ایک بار دنیا میں پھر لوٹا تاکہ ہم کچھ نیکی کمائیں۔ ہمیں ہر بات کا پورا یقین ہوگیا۔