تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 23
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ﴿23﴾
- وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور تحقیق ہم نے دی
- مُوْسَىموسیٰ
- الْكِتٰبَکتاب (توریت)
- فَلَا تَكُنْتو تم نہ رہو
- فِيْ مِرْيَةٍشک میں
- مِّنْسے۔ متعلق
- لِّقَآئِهٖاس کا ملنا
- وَجَعَلْنٰهُاور ہم نے بنایا اسے
- هُدًىہدایت
- لِّبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تھی تو تم اس یوم موعود کے ظہور کے باب میں کسی شک میں نہ رہو۔ اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
4۔ آگے کا مضمون۔ آیات 23۔ 30
آگئے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اوپر کے پیرے میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ ہدایت کے اتارنے کے بعد اگر وہ اس پر ایمان نہ لائے تو لازماً وہ اس دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کو عذاب سے سابقہ پیش آئے گا۔ آگے کی آیات میں اسی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کیا ہے اور آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کو بشارت دی ہے کہ اگر وہ ثابت قدرم رہے تو بالآخر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
5۔ الفاط کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد اتینا موسیٰ الکتب فلا تکن فی مریۃ من تقابہ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا تن و کانوا بایتنا یوقنون (23۔ 24)
’ الکتب ‘ سے مراد تورات ہے۔ جن لوگوں نے اس کو جنس کتاب کے مفہوم میں لیا ہے ان کی رائے قرآن کو تصریح کے خلاف ہے۔ ’ فجعلنہ ‘ میں ضمیر کا مرجع بہرحال یہی کتاب ہے اور اس کی تعریف یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کو ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا ‘۔ اس تعریف نے خود متعین کردیا کہ یہ لفظ جنس کتاب کے مفہوم میں نہیں بلکہ تورات کے لئے استعمال ہوا ہے۔
’ من لقائۃ ‘ میں جمیر کا مرجع سیاق وسباق دلیل ہے کہ الکتب نہیں بلکہ وہ یوم انتقال یا یوم عذاب ہے جس کی دھمکی اوپر کی آیات 21۔ 23 میں دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کی تکذیب کرنے والوں کو ہم نے اس دنیا میں بھی عذاب دیا اور آخرت میں بھی ان کو عذاب دیں گے اسی طرح ہم نے تمہارے ذریعے سے جو کتاب اتاری ہے اس کی تکذیب کرنے والوں کو بھی ہم دنیا اور آخرت دونوں میں سزا دیں گے۔
’ فلاتکن فر مریۃ من لقائہ۔ یعنی اس یوم انتقام اور یوم عذاب کے ظہور کے باب میں تم کسی شک میں نہ ہرو۔ یہ فیصلہ کی گھڑی آکے رہے گی۔ اس جملہ کا خطاب اگرچہ ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس میں جو وعید ہے اس کا رخ مخالفین و مکذبین کی طرف ہے، گویا بات ان سے منہ پھیر کر کہی گئی ہے۔
یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ رسول کی بعثت اور کتاب کی نزول کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ جو لوگ اس کی تکذیب کریں وہ دنیا و آخرت دونوں میں اس کی سزا پائیں۔ اسی حقیقت کو اسی اختصار و جامعیت کے ساتھ دوسرے مقام میں اس طرح بیان فرمایا ہے :
ولقد اتینا موسیٰ الکتب وجعلنا معہ اخاہ ھرون وزیرا نقلنا اذھبا الی القوم اللذین کذبوا بایتینا فدمرنھم تد میرا (الفرقان : 35۔ 36)
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو اس کا وزیر بنایا اور ان کو حکم دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہماری نشانیوں کی تکذیب کی ہے۔ پس ہم نے ان کو پامالی کرکے رکھ دیا۔
یہی مضمون سورة مومنون میں یوں آیا ہے :
فکذبوھما فکانوامن المھلکین ولقد اتینا موسیٰ الکتب لعلھم یھتدون۔ (المومنون : 48۔ 49)
پس ان دونوں کی (موسیٰ اور ہارون کی) انہوں نے تکذیب کردی اور ہلاک ہونے والوں میں سے بنے اور ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا کہ وہ ہدایت پانے والے بنیں۔
یہی بات ایک کلیہ کے طور پر تمام رسولوں سے متعلق بھی ارشاد ہوئی ہے :
ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الی قومھم فجاء وھم بانبینت فانتقمنا من الذین اجرموا وکان لقا علینا نصرا المومنین (الروم : 37)
اور ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے ان کی قوموں کی طرف تو وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ بالآخر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو جرم کے مرتکب ہوئے اور اہل ایمان کی مدد ہم پر واجب ہے۔
ان نظائر کی روشنی میں آیت زیربحث پر غور کیجئے تو اس کا ہر جزو پوری طرح واضح ہوجائے گا۔ ہمارے مفسرین نے اس کو چونکہ اس کے سیاق وسباق اور اس کے شواہد کی روشنی میں نہیں دیکھا اس وہ سے اس کی تاویل میں ان کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔
’ وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ‘ یعنی تورات کے مکذبین تو اس انجام سے دوچار ہوئے جو کتاب الٰہی کے مکذبین کے لئے ازل سے مقدر رہے البتہ بنی اسرائیل کے لئے، جنہوں نے اس کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صحیفہ ہدایت بنایا۔ بدقسمتوں نے اس سے ٹھوکر کھائی اور جنہوں نے اس کی قدر کی انہوں نے اسی سے ہدایت حاصل کی۔ اوپر سورة مومنون کی جس آیت کا حوالہ گزرا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔
’ وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا لما صبروا۔ ‘ یہ اس کتاب کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کو قوموں کی پیشوائی اور قیادت کے منصب پر سرفراز فرمایا اور ان کے اندر ایسے رہنما اٹھائے جو لوگوں کی رہنمائی اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ قیادت و امامت کتاب الٰہی کے لازمی ثمرات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنی کتاب سے سرفراز فرماتا ہے وہ جب تک اس کتاب پر قائم رہتی ہے اس کو قوموں کی امامت حاصل رہتی ہے اور اس کے دشمن اس کے آگے ذلیل و پامال ہوتے ہیں۔
یھدون بامرنا لما صبروا۔ یہ اس امامت کے شرائط و اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی کتاب عطا کی تھی اس وجہ سے وہ اللہ کے حکم کے مطابق ہی لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ بغل میں تو اللہ کی کتاب ہو اور آگے پیروی کے ئے سنتِ ابلیس ہو۔
’ لما صبروا ‘ یہ اس بنیاد کا ذکر ہے جس پر ساری شریعت قائم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کی توفیق انہوں نے اس وقت تک پائی جب تک وہ شریعت پر خوف و طمع سے بےنیاز ہو کر، جمے رہے۔
’ وکانو بایتنا یوقنون۔ یہ ان کے صبر کی اساس و بنیاد کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو اللہ کی آیات پر پختہ یقین تھا اور وہ جزا و سزا پر مضبوط عقیدہ رکھتے تھے۔ اس وہ سے وہ صبر کے اس امتحان میں پورے اترے۔
ان آیات پر تدبرکیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان میں مسلمانوں کے لئے بشارت اور مستبقل کی عظیم ذمہ داریوں کی یاددہانی بھی ہے اور وقت کے یہود پر تعریض بھی کہ وہ کیا بنائے گئے تھے اور اب کیا بن کے رہ گئے ہیں !