Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 22

  1. وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ع﴿22﴾

    1. وَمَنْاور کون
    2. اَظْلَمُبڑا ظالم
    3. مِمَّنْاس سے جو
    4. ذُكِّرَاسے نصیحت کی گئی
    5. بِاٰيٰتِ رَبِّهٖاس کے رب کی آیات سے
    6. ثُمَّپھر
    7. اَعْرَضَاس نے منہ پھیرلیا
    8. عَنْهَا ۭاس سے
    9. اِنَّابیشک ہم
    10. مِنَسے
    11. الْمُجْرِمِيْنَجمع (مجرم)
    12. مُنْتَقِمُوْنَانتقام لینے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جن کو ان کے رب کی آیات کے ذریعہ سے یاددہانی کی جائے پھر وہ ان سے اعراض کریں ! ہم ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمون (22) اوپر کی آیت میں عذاب کی جو دھمکی دی ہے یہ اس کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ آخر ہم ان کو عذاب کیوں نہ دیں ! ان سے بڑھ کر ظالم و مجرم کون ہوسکتا ہے جن کو ہماری آیات کے ذریعہ سے تذکیر و تنبیہ کی جائے اور وہ ان سے روگردانی کریں ! تذکیر و تنبیہ کا سب سے بڑا ذریعہ خدا کی کتاب اور اس کا رسول ہی ہوسکتا ہے۔ جو لوگ اس آخری ذریعہ تذکیر و تنبیہ سے بھی نہ جاگے اب سنت الٰہی کے تحت ان کے جگانے کے لئے کوئی دوسری چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اب لاریب وہ مجرم ہیں اور ہم ایسے مجرموں سے لازماً انتقام لے کے رہیں گے۔ کسی قوم میں رسول کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ اس قوم کے ساتھ جو معاملہ کرتا ہے اس کی وضاحت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ کرتے آئے ہیں۔ اس آیت کو اس کی روشنی میں سمجھئے۔