Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 2

  1. وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ﴿2﴾

    1. وَّاتَّبِعْاور پیروی کریں
    2. مَا يُوْحٰٓىجو وحی کیا جاتا ہے
    3. اِلَيْكَآپ کی طرف
    4. مِنْ رَّبِّكَ ۭآپ کے رب (کی طرف) سے
    5. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    6. كَانَہے
    7. بِمَااس سے جو
    8. تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
    9. خَبِيْرًاخبردار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور پیروی کرو اس چیز کی جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے وحی کی جارہی ہے، بیشک اللہ ان تمام چیزوں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واتبع ما یوحی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیرا و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (2۔ 3) اوپر جو بات منفی اسلوب سے فرمائی گئی ہے وہی بات مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے کہ اشرار کی تمام شر انگیزیوں سے بالکل بےپروا ہو کر تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے آتی ہے اور یہ اطمینان رکھو کہ تمہارے ہر اقدام و عمل سے اللہ اچھی طرح باخبر رہتا ہے۔ اس آیت میں پہلا خطاب واحد سے ہے اور دوسرا بما تعملون جمع ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں آنحضرت ﷺ سے جو خطاب ہے یہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کے معاملے میں یہی روش مسلمانوں کو بھی اختیار کرنی چاہیے۔ ’ و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا ‘۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی ہر بات علم و حکمت پر بھی مبنی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر بھی ہے تو اسی پر بھروسہ رکھو اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ اعتماد اور بھروسہ کے لئے اللہ کافی ہے۔ اس کے ہوتے تمہیں کسی دوسرے سہارے کی احتیاج نہیں ہے۔ لفظ وکیل کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں کہ س سے مراد وہ ذات ہے جس پر پورا اعتماد کرکے اپنے معاملات اس کے حوالہ کردیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ بندوں سے یہی ہے کہ وہ خدا کے دیے ہوئے احکام کی ہر حال میں تعمیل کریں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں کہ اس راہ میں جو شکلیں پیش آئیں گی ان سے عہدہ برآہونے کی وہ توفیق بخشے گا۔