Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 1

  1. اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ﴿1﴾

    1. اَلْحَمْدُتمام تعریفیں
    2. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    3. الَّذِيْ لَهٗوہ جس کے لیے
    4. مَاجو
    5. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    6. وَمَااور جو
    7. فِي الْاَرْضِزمین میں
    8. وَلَهُاور اسی کے لیے
    9. الْحَمْدُہر تعریف
    10. فِي الْاٰخِرَةِ ۭآخرت میں
    11. وَهُوَاور وہ
    12. الْحَكِيْمُحکمت والا
    13. الْخَبِيْرُخبر رکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
شکر کا حقدار وہ اللہ ہی ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی حمد آخرت ہوتی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الحمد اللہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض ولہ الحمد فی الاخرۃ وھو الحکیم الخبیر (1) اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة کی بنیاد شکر اور اسکے لوازم و مقتضیات پر ہے۔ ا۔ (سورة فاتحہ کی تفسیر میں یہ حقیقت بھی واضح ہوچکی ہے کہ شکر ہی پر توحید اور پھر پورے دین کی عمارت قائم ہے۔ منعم کے شکر کا واجب ہونا انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے۔ انسان پر جس کا بھی کوئی احسان ہوتا ہے وہ اس کا ممنون شکر گزا رہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے محسن کا شکر گزار نہ ہو تو وہ لئیم و کمینہ ہے۔ اسی اصل پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آسمان و زمین کی تمام نعمتیں، جن سے انسان ہر لمحہ متمتع ہو رہا ہے اور جن کے اوپر ہی اس کے بقا کا انحصار ہے، کسی کی پیدا کردہ اور کس کے قبضہ قدرت میں ہیں ؟ یہ سورج، یہ چاند، یہ ابر، یہ ہوا، یہ ستارے اور سیارے کس کے بنائے ہوئے ہیں ؟ یہ زمیں، یہ دریا، یہ پہاڑ، یہ چرند وپرند، یہ اشجارو و انہار اور یہ سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ ان سوالوں کا صحیح جواب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ، اسی کی مملوک اور اسی کے دست تصرف میں ہیں۔ پچھلی سورتوں میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ ان سوالوں کا یہی جواب قرآن کے کٹر سے کٹر مخالفین بھی دیتے تھے۔ اس آیت میں قرآن نے اسی بدیہی حقیقت کی یاددہانی کی ہے کہ وہی اللہ جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا خالق ومالک ہے وہی ان تمام مخلوقات کے شکر کا حقیقی سزاوار بھی ہے جو اللہ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں سے متمتعہو رہی ہیں۔ اس شکر کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ کسی دوسرے کو ان چیزوں کے خلق یا ان کی تدبیر میں کوئی دخل نہیں ہے۔ دوسروں سے انسان کو کوئی فیض پہنچتا ہے تو محض ایک واسطہ و ذریعہ کی حیثیت سے پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے اگر ان کا کوئی حق انسان پر قائم بھی ہوتا ہے تو وہ خدا کے حق کے تھت ہوتا ہے نہ ک کہ خدا کے حق سے بالاتر یا اس کے برابر۔ ’ ولہ الحمد فی الاخرۃ ‘ اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے اس حق کا ذکر تھا جو اس دنیا کی زندگی میں اس کے ہر بندے پر قائم ہوتا ہے۔ اب اس ٹکڑے میں اس کے اس حق کا ذکر ہے جو آخرت میں آشکارا ہوگا۔ فرمایا کہ اسی کی حمد آخرت میں بھی ہوگی۔ اس ٹکڑے سے کئی باتیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کو جو اہتمام فرمایا ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد آخرت کا ظہور ہو۔ اگر آخرت نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بالکل بےمعنی و بےغایت ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس نکتہ کی وضاھت متعدد مقامات میں ہوچکی ہے اس وجہ سے یہاں اشارے پر کفایت کیجئے۔ دوسری یہ کہ یہ اہل ِ یامن کے اس تراجہ حمد کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں تمام حقائق کے ظہور اور اللہ تعالیٰ کے جملہ وعدوں کے ایفاء کے بعد ان کی زبانوں سے بلند ہوگا۔ اس کی طرف سورة یونس میں اشارہ ہے :’ واخردعواھ ان الحمد اللہ رب العلمین (یونس : 10) (اور ان لوگوں کی آخری صدا یہ ہوگی کہ شکر کا حقیقی سزاوار اللہ، عالم کا خداوند ہے)۔ تیسری یہ کہ یہ شرکاء وشفعا کی کلی نفی ہے کہ یہ تما مزعومہ دیوی دیوتا جن کی شفاعت کی امید پر مشرکین نچنت بیٹھے ہیں، آخرت میں سب ہوا ہوجائیں گے۔ ان میں سے کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اس دن مشرکین پنے معبودوں پر لعنت کریں گے اور معبود اپنے پجاریوں سے اعلان براءت کریں گے۔ سب کی پیشی اللہ واحد کے حضور میں ہوگی۔ اسی کا فیصلہ ناطق ہوگا اور سب پر یہ حقیقت آشکارا ہوجائے گی کہ سزوارِ حمد صرف اللہ رب العالمین ہے۔ اس حقیقت کی طرف سورة قصص میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے :’ لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ ولہ الحکم والیہ ترجعون (القصص : 70) وہی حمد کا حق دار ہے دنیا میں اور اسی کی حمد ہوگی آخرت میں اور اسی کے اختیار میں تمام امور کا فیصلہ ہے اور اسی کے آگے تمہاری پیشی ہونی ہے)۔ ’ وھو الحکیم الخبیر ‘۔ یہ اوپر کے تمام دعا دی کی دلیل اللہ تعالیٰ کی صفات سے پیش کی گئی ہے کہ وہ حکیم وخبیر ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں اپنے شکر گزار بندوں کو ان کی شکرگزاری کا صلہ دے اور ناشکرے اپنی ناسپاہی کی سزا بھگتیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال بلکہ ایک نہایت ظالمانہ کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور الغیاذ اللہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق حکیم نہیں بلکہ ایک کھلنڈرا ہے حالانکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ یہ شہادت دے رہا ہے کہ اس کا خالق ایک حکیم ہے۔ اسی طرح اس کے حکیم ہونے کا یہ بھی تقاضا ہے کہ س کے بےلاگ عدل کو سی کی سفارش باطل نہ کرسکے اس لئے کہ اس صورت میں بھی اس کے حکیم ہونے کی نفی ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ خبیر بھی ہے اس لئے کہ جب اس نے ہر چیز پیدا کی ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس کے ایک ایک ذرہ اور ایک ایک حرکت و سکون سے باخبر بھی ہو چناچہ فرمایا ’ الا یعلم من خلق (الملک : 14) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے سب کچھ بنایا ہے) اس کے اس محیط کل علم کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی کے معاملے کا فیصلہ کرتے وقت نہ کسی دوسرے علم و خبر کا متحاج ہو اور نہ کوئی اس کو اپنی جھوٹی سفارش سے فریب دے سکے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ان تمام باتوں کو حصر کے اسلوب میں فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جب حقیقی خالق ومالک اور حقیقی حکیم و خبیروہی ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا کا سزا وار کس طرح ہوسکتا ہے۔