تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 2
یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ﴿2﴾
- يَعْلَمُوہ جانتا ہے
- مَا يَلِجُجو داخل ہوتا ہے
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَمَااور جو
- يَخْرُجُنکلتا ہے
- مِنْهَااس سے
- وَمَااور جو
- يَنْزِلُنازل ہوتا ہے
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- وَمَااور جو
- يَعْرُجُچڑھتا ہے
- فِيْهَا ۭاس میں
- وَهُوَاور وہ
- الرَّحِيْمُمہربان
- الْغَفُوْرُبخشنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو اس سے برآمد ہوتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہی رحم فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعلم ما یلض فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو الرحیم الغفور (2)
یہ اسی صفت خبیر کی وضاھت ہے کہ اس کا علم اس کائنات کے ایک ایک ذرے اور ایک ایک حرکت و سکون کو محیط ہے۔ جو دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے وہ اس سے بھی باخبر ہوتا ہے اور جو پودا اس سے برآمد ہوتا ہے اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ اسی طرح آسمان سے جو خیرو شر نازل ہوتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہوتا ہے اور جو چیزیں اس میں صعود کرتی ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا علم تمام کلیات و جزئیات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز کی نگرانی فرما رہا ہے۔ اس کی مملکت میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہ تو اس کے دائرہ علم سے باہر ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ اس کے کسی گوشے میں اس کے علم و اذن کے بغیر کوئی کسی قسم کی نقل و حرکت یا دراندازی کرسکے۔ علمِ الٰہی کے اس احاطہ کی وضاحت اس مقصد سے کی گئی ہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل مشرکین کا یہ مغالطہ ہے کہ بھلا اتنی ناپید کنار کائنات کے ہر کونے اور گوشے، ہر ایک کے قول و عمل اور ہر ایک کے دکھ اور درد سے خدا ہر لمحہ کس طرح واقف رہ سکتا ہے ! اس وجہ سے اپنے تصور کے مطابق اس کائنات کے مختلف حصوں کو انہوں نے الگ الگ دیوتائوں میں تقسیم کیا۔ اس کا تقرب حاصل کرنے اور اس کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرنے کے لئے وسائل و وسائط ایجاد کیے۔ جنوں کو آسمان کی خبریں لانے والا مان کر ان کی پرستش کی، فرشتوں کو شفاعت کرنے والا سمجھ کر ان کو دیویوں کا درجہ دیا۔ اس آیت نے ان تمام توہمات پر ضب لگائی کہ خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہے۔ وہ اپنی پوری کائنات کے سارے نظام پر خود حاوی اور تنہا کافی ہے۔
’ وھو الرحیم الغفور ‘ یعنی خدا کوئی ظالم اور غیر منصف بھی نہیں یہ کہ اس کو راضی کرنے یا اس کی آفتوں سے اپنے کو بچانے کے لئے کسی دوسرے کی سعی و سفارش کی ضرورت پیش آئے بلکہ وہ نہایت مہربان اور نہایت بخشنے والا ہے۔ اس کی رحمت کو متوجہ کرنے اور اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور توجہ و اصلاح کرے۔ یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک اہم عامل مشرکوں کا یہ مغالطہ بھی ہے کہ انہوں نے خدا کا تصور ایک نہایت ہولناک ہستی کی حیثیت سے کیا اور پھر اس کو راضی رکھنے کے لئے انہوں نے اپنے تصور کے مطابق وسائل و ذرائع ایجاد کیے۔ اس ٹکرے نے اسی واہمہ پر ضرب لگائی ہے۔