Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 11

  1. اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿11﴾

    1. اَنِکہ
    2. اعْمَلْبناؤ
    3. سٰبِغٰتٍکشادہ زرہیں
    4. وَّقَدِّرْاور اندازہ رکھو
    5. فِي السَّرْدِ(کڑیوں کے) جوڑنے میں
    6. وَاعْمَلُوْااور عمل کرو
    7. صَالِحًا ۭاچھے
    8. اِنِّىْبیشک
    9. بِمَا تَعْمَلُوْنَتم جو کچھ کرتے ہو اس کو
    10. بَصِيْرٌدیکھ رہا ہوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ ڈھیلی ڈھالی زرہیں بنائو اور ان کے جوڑ پیوستہ رکھو اور سب نیک عمل کرو، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان اعمل سبعت وقدر فی السرد واعملوا صلحا انی بما تعملمون بصیر (11) ’ سبغت ‘ ڈھیلے ڈھالے لباس کو کہتے ہیں جو پورے جسم کو ڈھانک لے۔ یہاں یہ ڈھیلی ڈھالی زر ہوں کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ قدرفی السرد میں سود کے معنی بناوٹ کے اور تقدیر کے معنی بناوٹ میں پورے تناسب کو ملحوظ رکھنے کے ہیںَ لوہے سے ایسا لباس تیار کرلینا جو ڈھیلا ڈھالا بھی ہو اور اس کی کڑیوں میں پورا تناسب بھی ملحوظ رہ سکے بغیر اس کے ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود پر لوہے کے پگھلانے کی ایسی اعلیٰ سائنس کا انکشاف فرمایا، جس کی اولیت کا سہرا انہی کے سر ہے۔ اپنی اس ایجاد سے انہوں نے دفاعی اسلحہ میں ایک نہایت پیش قیمت اضافہ کیا جس سے ان کی فوجی قوت ان کے حریفوں کے مقابل میں بہت بڑھ گئی۔ واملو صلحا انی بما تعملون بصیرا۔ اوپر کے ٹکرے میں اس فن کو زیادہ سے زیادہ ترقی دیے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے۔ اس ٹکڑے میں اس فن کا اخلاقی تقاضا بیان ہوا ہے کہ اس کو پاکر بہک نہ جانا اور اس کو زمین میں فساد کا ذریعہ نہ بنانا، بلل کہ اس بات کو برابر یادرکھنا کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود اور ان کے تمام آل و تباع کو فرمائی۔ اس کا ذکر بابار زبور اور مثال میں بھی آیا ہے۔ اس زمانے میں انسان نے سائنس میں جو ترقی کی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے بڑے بڑے فائدے پہنچے ہیں اور پہنچ سکتے ہں۔ لیکن دو باتیں انسان بھول گیا ہے۔ ایک یہ کہ سائنس کا ہر انکشاف جو ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے ہوا ہے۔ دوسری یہ کہ ہر نعمت اور ہر قوت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہا نسان اس کو خدا کی امانت سمجھے اور یہ یاد رکھتا ہوا اس کو استعمال کرے کہ جس خدا نے یہ بخشی ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ میں اس کو کہاں استعمال کرتا ہوں۔ ان دو حقیقتوں کے فراموش کردینے کی وجہ سے اب سائنس انسان کے لئے ایک عظیم خطرہ بن گئی ہے اور نہیں کہا جاسکتا کہ انسان اپنے ہی ایجاد کیے ہوئے اسلحہ سے کب خود کشی کرلے۔