Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 10

  1. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ﴿10﴾

    1. وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور تحقیق ہم نے دیا
    2. دَاوٗدَداؤد
    3. مِنَّااپنی طرف سے
    4. فَضْلًا ۭفضل
    5. يٰجِبَالُاے پہاڑو
    6. اَوِّبِيْتسبیح کرو
    7. مَعَهٗاس کے ساتھ
    8. وَالطَّيْرَ ۚاور پرندو
    9. وَاَلَنَّااور ہم نے نرم کردیا
    10. لَهُاس کے لیے
    11. الْحَدِيْدَلوہا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے دائود کو اپنے خاص فضل سے نوازا۔ اے پہاڑوِ تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں شرک کرو اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو بھی دیا۔ اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے کا مضمون۔ آیات 10۔ 21 آگے تاریخ سے دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی مثال حضرت دائود سلیمان علیما الاسلام کی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے عطیم بادشاہی، عطیم علم وحمت اور آسمان و زمین کی بیشمار نعمتوں سے نوازا اور ہو ان نعمتوں کو پاکر طغیان و فساد میں متبال نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے رب کے شکر گزار اور فرماں بردار رہے۔ ان کی اس شکر گزاری کا صلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دیا کہ ان کے لئے نعمتوں میں برابر اضافہ پر اجافہ ہوتا رہا۔ دوسری مثال اہل سبا کی ہے۔ ان کو بھی ایک نہایت آباد و زرخیر ملک کی حکومت ملی لیکن وہ اس کو پاکر طغیان و فساد میں مبتلا ہوگئے بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سیلاب بھیج کر اس طرح ان کو تباہ کردیا کہ وہ ایک داستانِ پارینہ بن کر رہ گئے۔ یہ دونوں مثالیں قریش کے مترفین و متکبرین کے سامنے پیش کی گئی ہیں کہ ان کے سامنے بھی یہ دونوں راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ وہ چاہیں تو حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی طرح خدا کے شکر گزار رہ کر اپنے آپ کو خدا کی نعمتوں کا حقدار بنا سکتے ہیں اور چاہیں تو اہل سبا کی روش اخیار کرکے اس کے قہر کو بھی دعوت دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس میں یہ تذکیر بھی ہے کہ جب اس دنیا میں خدا کے قانو مجازات کے ظہور کی یہ مثالیں موجود ہیں تو آخرت میں اس کے ظہور کو کیوں مستبعد خیال کرتے ہو ! اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد اتینا دائود منا فضلا۔ یجبال ادبی معد والطری والنالہ الحدید (10) حضرت دائود ؑ اور حضرت سیلمان ؑ پر اللہ تعالیٰ نے جو فضل خاص فرمایا اس کی تفصیل سورة انبیاء اور سوہ نمل میں گزر چکی ہے۔ یہاں ہم اپنی بحث صرف ضروری حد تک محدود رکھیں گے۔ ’ یجبال اوبی معہ والظیرا۔ ‘ یہ اشارہ ہے اس سوذوگداز کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ؑ کو عطا فرمایا تھا کہ جب وہ پہاڑوں کے دامن میں بیٹھ کر اپنے خاص لاہوتی لحسن میں اپنے رب کی حمد کا ترانہ چھیڑتے اور اپنی منظوم مناجاتیں پڑھتے تو شجر و حجر اور چرند پرند سب جھوم اٹھتے اور ان کی ہم نوائی کرتے۔ ’ تادیب ‘ کے اصل معنی ’ ترجیع ‘ کے ہیں کعنی کسی کے سر میں اپنا سرملانا۔ اس کی آواز کو دہرانا، اس کی ہم آہنگی اور ہم نوائی کرنا۔ یوں تو اس کائنات کی ہر چیز خدا کی ستبیح کرتی ہے اور جب وہ تسبیح کرتی ہے تو لازماً تسبیح کرنے والوں کی ہم نوائی بھی کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت دائود کو خاص نوع کا دل گدا ختہ اور خاص قسم کا لحن عطا فرمایا تھا اسی طرح اپنے خاص حخم سے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ جس وقت حضرت دائود اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں، وہ بھی ان کے ساتھ اس میں شریک ہوں۔ سورة انبیاء میں یہی مضمون یوں ادا ہوا ہے۔ وسرنا مع دائود الجبال والطیر (79) (اور ہم نے دائود کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا اور پرندوں کو بھی)۔ ’ والنالہ الحدید ‘۔ ان کی بزم کا حال بیان کرنے کے بعد یہ ان کی رزم کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے اس کے لوہے کو نرم کردیا۔ اس کی وضاحت سورة انبیاء میں ہوچکی ہے کہ انہوں نے لوہے کو پگھلانے اور اس سے نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے کے فن کو اتنی ترقی دی کہ لوہے کی زرہیں ایسی ڈھییل ڈھالی بننے لگیں کہ معلوم ہوتا کہ کسی کپڑے سے بنائی گئی ہیں جن کا پہننان نہایت آسان ہوتا اور حفاظت کے پہلوے سے وہ لوہے کا کام دیتیں۔