Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 15

  1. لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ﴿15﴾

    1. لَقَدْ كَانَالبتہ تھی
    2. لِسَبَاٍ(قوم) سبا کے لیے
    3. فِيْمیں
    4. مَسْكَنِهِمْان کی آبادی
    5. اٰيَةٌ ۚایک نشانی
    6. جَنَّتٰنِدو باغ
    7. عَنْ يَّمِيْنٍدائیں سے
    8. وَّ شِمَالٍاور بائیں
    9. كُلُوْاتم کھاؤ
    10. مِنْسے
    11. رِّزْقِ رَبِّكُمْاپنے رب کے رزق
    12. وَاشْكُرُوْااور شکر ادا کرو
    13. لَهٗ ۭاس کا
    14. بَلْدَةٌشہر
    15. طَيِّبَةٌپاکیزہ
    16. وَّرَبٌّاور پروردگار
    17. غَفُوْرٌبخشنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اہل ِ سبا کے لئے بھی ان کے مسکن میں بہت بڑی نشانی موجود تھی۔ دہنے بائیں دونوں جانب باغوں کی دو قطاریں۔ اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق سے متمتع ہو اور اس کے شکر گزار رہو ! زمین شاداب و زرخیز اور پروردگار بخشنے والا ہے ! !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لقد کان لسبا فی مکسنھم ایۃ جنتان من یمین و شمال کلو امن رزق ربکم واکشرو لہ بلدۃ طیبۃ و رب غفور (15) ’ سبا ‘ کا ذکر سورة نمل کی آیت 22 کے تحت گزر چکا ہے۔ جو علاقہ اب یمن کہلاتا ہے وہی پہلے سبا کا علاقہ تھا۔ یہ نہایت زرخیز و شاداب خطہ تھا۔ اس کی اصل شاہراہ کے دونوں جانب نہایت شاداب باغوں کا سلسلہ تھا جو پورے علاقہ پر پھیلا ہوتا تھا لیکن اس کے باشندوں نے اللہ تالیٰ کے اس فضل کی قدر نہیں کی، جس کی پاداش میں اللہ نے ان پر ایک سیلاب بھیجا جس سے پورا ملک تباہ ہو کر رہ گیا۔ اوپر حضرت دائو و حضرت سلیمان علیما السلام کا کردار شکرگزار بندوں کے کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ اب یہ ناشکروں کا کردار اور ان کا انجام پیش کیا جا رہا ہے۔ سورة نحل کی آیت 112۔ 113 میں بھی ان کی مثال سے قریش کو عبرت دلائی گئی ہے۔ لقد کان لسبا فی نکنھم ایۃ۔ ’ سبا ‘ سے مراد یہاں اہل ِسبا ہیں۔ اور ’ مکن ‘ یہاں خطہ اور علاقہ کے مفہوم میں ہے۔ لفظ ایتہ کی تنکیر تفخیم شان کے لئے ہے۔ ملطب یہ ہے کہ اہل سبا کے لئے ان کے علاقے میں خدا کی رحمت و ربوبیت اور اس کے فضل و انعام کی بہت بڑی نشانی موجود تھی لیکن انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ اس سے ان کو جو سبق حاصل کرنا تھا وہ سبق انہوں نے حاصل نہیں کیا۔ ’ جنتن عن یمین و شمال ‘ یہ اس نشانی کی وضاحت ہے کہ ان کے دونوں جانب، داہنے اور بائیں باغوں کو دو قطاریں تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقہ کے وسط سے ان کی مرکزی شاہراہ گزرتی تھی اور اس شاہراہ کے دونوں جانب باغوں کی قطاریں تھیں۔ ‘ جنتان ‘ یہاں دو باغوں کے مفہوم میں نہیں بلکہ باغوں کی دو قطاروں کے مفہوم میں ہے۔ مثنیٰ کے اس طریق استعمال کی مثالیں عربی میں موجود ہیں اور یہاں اس کا قرینہ واضح ہے۔ ’ کلو من رزق ربکم واشکرو لہ َ۔ خدا کی اس عظیم نشانی سے جو درس حاصل ہوتا ہے اور جو اہل ِ سبا کو حاصل کرتا تھا۔ یہ اس کا بیان ہے کہ یہ عظیم رحمت ور فاہیت اپنی زبان حال سے ان کو درس دے رہی ہے کہ اپنے رب کے اس عظیم خوان کرم سے بہرومندہوں اور اس کے شکرگزار رہیں۔ ’ بلدۃ طیبۃ ورب غفور طیبہ ‘ یہاں زرخیر شاداب کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ یہ اسی درس کی مزید توسیع ہے کہ اگر وہ کھلی آنکھوں سے اپنے ملک کو دیکھتے تو اس وسیع خوان کرم کو، جس پر اس فیاضی کے ساتھ ان کے لئے نعمتیں چنی گئی تھیں، دیکھ کر ان پر یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی کہ جس نے کہ خوان کرم بچھایا ہے وہ بڑا ہی غفار و ستار آقا ہے جس نے بلاکسی استحقاق کے، ان کی ناقدریوں اور نا شکریوں کے باوجود، ان کے لئے اپنی نعمتوں کے یہ انبار لگا دیے ہیں۔ یہ حقیقت اس کتاب میں ہم جگہ جگہ واضح کرتے آرہے ہیں کہ نعمت پاکر منعم کی شکر گزاری کا شعور انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ یہ چیز حیوانات کی جبلت میں بھی داخل ہے۔ اگر کوئی انسان اس شعور سے عاری ہے تو وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے۔