تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 16
فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ﴿16﴾
- فَاَعْرَضُوْاپھر انہوں نے منہ موڑ لیا
- فَاَرْسَلْنَاتو ہم نے بھیجا
- عَلَيْهِمْان پر
- سَيْلَ الْعَرِمِسیلاب بند سے (رکا ہوا)
- وَبَدَّلْنٰهُمْاور ہم نے انہیں بدل دیے
- بِجَنَّتَيْهِمْان کے دو باغوں کے بدلے
- جَنَّتَيْنِدو باغ
- ذَوَاتَىْوالے
- اُكُلٍمیوہ
- خَمْطٍبدمزہ
- وَّاَثْلٍاور جھاڑ
- وَّشَيْءٍاور کچھ
- مِّنْ سِدْرٍبیریاں
- قَلِيْلٍتھوڑی
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو انہوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل والے درخت اور جھائو اور ہری کی کچھ جھاڑیاں رہ گئیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاعرضوا فارسلنا علیھم سیل العرم وبدلتھم بجتیھم جنتین ذواتی اکل خمط و امثل وشئی من سدر قلیل (16)
’ عرم ‘ کے معنی بعض اہل لغت نے زور داربارش کے لکھے ہیں اور بعض نے اس کو عرمۃ کی جمع بتایا ہے، جو تہ بہ تہ اکٹھا کیے ہوئے پتھروں کے لئے آتا ہے۔ پھر یہیں سے یہ اس سد یا بند کے لئے بھی استعمال ہونے لگا جو کسی وادی کے درمیان پانی کو روکنے کے لئے بنایا جائے۔ اقرب الموراد میں ہے مسدیعترض بعہ والوادی (وہ بند جو وادی کے بیچ میں بنایا جائے) جس طرح ہمارے منگلا اور تربیلا ڈیم ہیں۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کا ایک کئی میل لمبا چوڑا ڈیم اہل سبا کا بھی تھا جو ان کو سیلاب کے خطرات سے محفوط بھی کئے ہوئے تھا اور آب پاشی کے لئے بھی بقدر ِ ضرورت اس سے ان کو پانی حاصل ہوتا تھا۔ تاریخوں میں اس کا زکر سدِ مآرب کے نام سے آتا ہے۔ ’ مآرب ‘ سبا کا دارالسطلنت تھا۔ یہ بند غالباً 542 ئح میں ٹوٹا اور اس کے ٹوٹنے سے سارا ملک تباہ ہوگیا۔
’ فاعرضوا فارسلنا علیھم سیل العرم ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ نعمتیں دیں تو ان کو پاکر وہ خدا کے شکر گزار ہونے کے بجائے طغیان و فساد میں مبتلا ہوئے۔ سورة نحل کی آیت 113 سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو انداز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بالآخر ان پر خدا کا عذاب اس شکل میں آیا کہ ایک عظیم سیلاب نے ان کے بند توڑ دیا جس سے ان کا سارا ملک تاراج ہو کر رہ گیا۔
’ وبد لنھم الایۃ۔ ’ خمط ‘ بدمزہ کڑوے کیلے پھلوں کو کہتے ہیں۔ یعنی اس سیلاب نے ان کے ملک کو اس طرح تلپٹ کرکے رکھ دیا کہ شاداب باغوں کی جگہ کڑوے کیلے پھلوں کے کچھ درخت اور کچھ جھائو اور بیری کی جھاڑیاں رہگئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیلاب نے صرف ان کے باغ ہی ویران نہیں کئے بلکہ ان کے پورے علاقے پر کسی ایسی مٹی یا ریت کی تہ جمادی جس نے بچے کھچے درختوں کے مزاج بھی بدل دیے اور پورا علاقہ صرف جنگلی جھاڑیوں ہی کے لئے موزوں رہ گیا۔