تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 24
قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿24﴾
- قُلْفرمادیں
- مَنْکون
- يَّرْزُقُكُمْتمہیں رزق دیتا ہے
- مِّنَ السَّمٰوٰتِآسمانوں سے
- وَالْاَرْضِ ۭاور زمین
- قُلِفرمادیں
- اللّٰهُ ۙاللہ
- وَاِنَّآاور بیشک ہم
- اَوْیا
- اِيَّاكُمْتم ہی
- لَعَلٰى هُدًىالبتہ ہدایت پر
- اَوْیا
- فِيْ ضَلٰلٍگمراہی میں
- مُّبِيْنٍکھلی
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے پوچھو، تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق بہم پہنچاتا ہے ؟ کہوِ اللہ ! اور ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی ہوئی گمراہی میں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل من یرزکم من السموات والارض قلل اللہ وانا اوایکم لعلی ھدی اوفی ضل مبین) 24)
یعنی ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین سے کون تم کو روزی دیتا ہے ؟ کون آسمانوں سے پانی برساتا سورج چمکاتا اور موسمی تغیرات پیدا کرتا ہے اور کون زمین سے بیجوں کو اگاتا، سبزوں کو نشوونما دیتا اور فصلوں کو بار آور کرتا ہے ؟
’ قل اللہ ‘۔ فرمایا کہ ان کو بتا دو کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے اور آسمانوں اور زمین کی یہ سازگاری اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک ہی خدائے قادر و قیو کا ارادہ کارفرما ہے۔
یہاں سوال کرنے کے بعد اس کا جواب بھی خود ہی دے دیا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس جواب سے مخاطب کے لئے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اہلِ عرب کے عقائد سے متعلق یہ بات ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ وہ اپنی دیویوں دیوتائوں میں سے کسی کو خالق یا رزاق نہیں مانتے تھے بلکہ صرف سفارشی اور ذریعہ تقرب مانتے تھے۔ قرآن میں یہ تصریح موجود ہے کہ اگر ان سے پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون روزی دیتا ہے تو جھٹ جواب دیں گے کہ اللہ ! ‘۔ چونکہ یہ بات مخاطب کو تسلی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وہی مسلمہ حقیقت یہاں ان کے سامنے رکھ دی ہے۔
’ وانا اولایم لعلی ھدی او فی ضل مبین ‘۔ مطلب یہ ہے کہ اسی مسلمہ حقیقت پر ہماری دعوت کی بنیاد ہے۔ اگر تم اس پر ہم سے جھگڑ رہے ہو تو مزید کسی بحث وجدال کی ضرورت نہیں ہے۔ یا تو ہم ہدایت پر ہیں اور تم کھلی ہوئی گمراہی میں ہو یا تم ہدایت پر ہو اور ہم ضلالت پر ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم صدم ضدا میں اس حد تک دھاندلی پر اتر آئے ہو کہ ایک ہی سانس میں ایک حقیقت کو مانت ہو، پھر اسی کو جھٹلاتے ہو تو تم سے مزید بحث جاری رکھنا بےسود ہے۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی فیصلہ فرمائے گا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون ضلالت پر ! ہمارے نزدیک یہ ٹکڑا مواد عت کے مفہوم میں ہے نہ کہ ملاطفت کے مفہوم میں، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے۔