تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 23
وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ﴿23﴾
- وَلَا تَنْفَعُاور نفع نہیں دیتی
- الشَّفَاعَةُشفاعت
- عِنْدَهٗٓاس کے پاس
- اِلَّاسوائے
- لِمَنْ اَذِنَجسے وہ اجازتے دے
- لَهٗ ۭاس کو
- حَتّىٰٓیہاں تک
- اِذَاجب
- فُزِّعَدور کردی جاتی ہے
- عَنْ قُلُوْبِهِمْان کے دلوں سے
- قَالُوْاکہتے ہیں
- مَاذَا ۙکیا
- قَالَکہا
- رَبُّكُمْ ۭتمہارے رب نے
- قَالُواوہ کہتے ہیں
- الْحَقَّ ۚحق
- وَهُوَاور وہ
- الْعَلِيُّبلند مرتبہ
- الْكَبِيْرُبزرگ قدر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسکے ہاں کوئی شفاعت کارگر نہیں ہوگی مگر اس کے لئے جس کے لئے وہ اجازت دے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے دہشت دور ہوگی وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا حکم فرمایا ؟ وہ جواب دیں گے کہ بالکل حق ارشاد ہوا ! اور وہ نہایت عالی مقام اور عظیم ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولاتنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ ط حتی اذا فزع عن قلوبھم قالوا ماذا قال ربکم قالو الحق وھو العلی الکبیر (23)
حق و اختیار کی نفی کے بعد یہ ان کے مزعومہ تصور شفاعت کی بھی نفی کردی۔ فرمایا کہ اگر ان کی شفاعت کی امید پر نچنت بیٹھے ہو تو یاد رکھو کہ خدا کے حضور میں کسی کی شفاعت کسی کے لئے نافع نہیں ہوگی مگر اس کے لئے جس کے لئے خدا اجازت دے یعنی اول تو خدا کے اذن کے بدون کوئی کسی کی شفاعت کی جرأت ہی نہیں کرے گا، پھر اجازت کے بعد بھی وہ شفاعت صرف اسی کے لئے کرے گا جس کے لئے اس کو اجازت مرحمت ہوئی ہوگی۔ کسی ایسے کے بارے میں وہ زبان نہیں کھول سکے گا جس کے لئے اس کو اجازت نہ ملی ہو۔ دوسرے مقامات میں یہ وضاحت بھی فرمادی گئی ہے کہ وہ وہی بات کہے گا جو حق ہوگی۔ خدائے علام الغیوب کے آگے نہ کوئی کسی باطل کو حق بنا سکے گا اور نہ کوئی بات حق کے خلاف زبان سے نکال سکے گا۔
یہ مشرکین کے اس گمان کی تردید ہے جو وہ اپنے معبود فرشتوں سے متعلق رکھتے تھے کہ وہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں اس وجہ سے وہ اپنے باپ سے جو بات چاہیں منوا سکتی ہیں اور خدا کو ان کی ناز برداری میں ان کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔
حتی اذ نزع من قلوبھم قالوا ماذ قال ربکم قالو الحق ’ تفریح ‘ کے اصل معنی تو ڈرا دینے اور دہشت زدہ کردینے کے ہیں لیکن جب اس کا صلہ ’ عن ‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی دہشت دور کردینے کے ہوجاتے ہیں۔ فزع عن قلوبھم کے معنی ہوں گے جب ان کے دلوں سے دہشت دور کردی جائے گی ‘۔
یہ حال بیان ہوا ہے قیامت کے دن فرشتوں کا کہ اس دن آگے بڑھ کرنا زو تدلل کے ساتھ کسی کی شفاعت کرنا تو الگ رہا تمام خلق کی طرف ان پر بھی اس دن ایسا ہول طاری ہوگی کہ انہیں کچھ خبر نہیں ہوگی کہ لوگوں کے باب میں رب العزت کی بارگاہ سے کیا حکم صادر ہوا۔ جب ان کی دہشت دور ہوگی تو وہ دوسروں سے سوال کریں گے تمہارے رب کی طرف سے کیا حکم صادر ہوا ؟ وہ جواب دیں گے کہ بالکل بجا حکم صادر ہوا ہے۔
فرشتوں سے متعلق مشرکین کے اسی تصور کی تردید کرتے ہوئے سورة زمر میں یوں ارشاد فرمایا ہے :
وما قدرو اللہ حق قدرہ مے والارض جمیعا قبجتہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ سجنہ وتعالیٰ عما یشرکون ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذ اھم قیام ینظرون (الزمر : 27۔ 28)
اور انہوں نے اللہ کی صحیح شان نہیں پہچانی ! اور وہ زمین کو قیامت کے دن مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کی بساط بھی اس کے ہاتھ میں لپیٹی ہوئی ہوگی۔ وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اور صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں بےہوش ہو کر گرپڑیں گے، مگر جن کو اللہ محفوط رکھنا چاہیے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے، تاکتے ہوئے۔
یہ باتیں احوالِ قیامت سے تعلق رکھنے والی ہں۔ ان کا صحیح تصور اس دنیا میں ممکن نہیں ہے لیکن یہ دونوں آیتیں ایک ہی موقع و محل کی ہیں اس وجہ سے اگر آیت زیر بحث کا مفہوم سورة زمر کی مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ بات نکلتی ہے کہ جب پہلی دفوہ صور پھونکا جائے تگا تو آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات بےہوش ہو کر گرپڑیں گی۔ صرف ہی لوگ اس سے محفوظ رہ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ محفوط رکھے۔ انہی لوگوں کو ذکر دوسرے مقام میں یوں آیا ہے ـولا یحزنھم الفزع الاک برا النابیاء 103) (ان کو سب سے بڑے ہول کا غم لاحق نہیں ہوگا) پھر جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اٹھ کھرے ہوں گے اور حیرت و دہشت کے ساتھ دیکھیں گے کہ یہ کیا ہوگیا اور کیا ہونے والا ہے ! معلوم ہوتا ہے اسی مرحلے میں فرشتے وہ سوال کریں گے جو ’ ماذاقال ربکم ‘ کے الفاظ سے یہاں مذکور ہے۔ اس سوال سے ان کی سراسمیگی اور دہشت زدگی کا اظہار ہو رہا ہے کہ نازو اعتماد کے ساتھ، آگے بڑھ کر، کسی کی سفارش کرنا تو درکنار، صورتِ حال ایسی ہوگی کہ خود ان کے اپنے اوسان بجا نہیں رہی گے۔ وہ دوسروں سے پوچھیں گے کہ بارگاہِ الٰہی سے کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب میں صرف یہ کہیں گے کہ جو حکم ہوا ہے وہ بالکل حق ہ۔ ’ الحق ‘ فعل مخدوف سے منصوب ہے۔ یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جن کے معاملات کا اس دن فیصلہ وہ گا اس لئے کہ اس دن حق اس طرح واضح ہوجائے گا کہ کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کرسکے گا کہ اسکے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہے اور امکان اس کا بھی ہے کہ یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے ہو جو اس دن کے ہول سے محفوظ رکھے جائیں گے اور جن کی طرف سورة زمر کی مذکورہ بالا آیت میں الا من شاء اللہ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگر یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے مانا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دن اکثریت کا حال تو یہ ہوگا کہ ان کو خود اپنی پڑی ہوگی وہ دوسروں کی سفارش کیا کریں گے اور جو اس دن کے ہول سے امان میں رکھے جائیں گے ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ پکاریں گے کہ رب عادل و کریم نے جو فیصلہ فرمایا ہے وہ بالکل حق فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اصل حقیقت حال یہ ہے کہ تو وہ کون لوگ ہیں جن کی شفاعت پر مشرکین تکیہ کیے ہوئے ہیں !
’ وھو العلی الکبیر یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی بلند وارفع اور بڑی باعظمت و باجبروت ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے آگے اس کے اذن کے بغیر زبان کھول سکے اور نہ کسی کی یہ شان ہے کہ اس تک اس کی رسائی ہوسکے۔
فرشتوں میں سب سے زیادہ عالی مقام حضرت جبریل امین ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک رسائی کے معاملے میں ان کی بےبسی کا بھی یہ حال ہے کہ
اگر یک سرموئے برتر پرم فروغ تجلی بسوز و دم
اس مسئلہ پر مزید بحث انشاء اللہ اگلی سورة میں آئے گی۔