Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 32

  1. قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ﴿32﴾

    1. قَالَکہیں گے
    2. الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْاجو لوگ تکبر کرتے تھے (بڑے لوگ)
    3. لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْٓاان سے جو کمزور کیے گئے (ناتوان)
    4. اَنَحْنُکیا ہم
    5. صَدَدْنٰكُمْہم نے روکا تمہیں
    6. عَنِسے
    7. الْهُدٰىہدایت
    8. بَعْدَاس کے بعد
    9. اِذْ جَآءَكُمْجب آگئی تمہارے پاس
    10. بَلْبلکہ
    11. كُنْتُمْتم تھے
    12. مُّجْرِمِيْنَمجرم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ لوگ جو بڑے نے، ان لوگوں کو جو دبا کے رکھے گئے، جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تم کو ہدایت سے روکا جب کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی ! بلکہ تم خود ہی مجرم ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قال الذین استکبروا للذین استجعفوا انحن صددنکم عن الھدی بعد اذا جائیکم بل کنتم مجرمین (32) لیڈر اپنے پیروئوں کو جھٹ جواب دیں گے کہ تمہارا الزام بالکل غلط ہے کہ تم کو ہم نے اللہ کی ہدایت سے روکا بلکہ مجرم تم خود ہو کہ نہایت واضح ہدایت آجانے کے بعد بھی تم ہمارے پیرو بنے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق نہ تو ہم پر مخفی تھا نہ تم پر۔ اللہ کے رسول نے حجت تمام کردی تھی۔ یہ بات نہ ہوئی ہوتی تب تو کسی حد تک ہم کو الزام دینے میں تم بجانب حق ہوتے لیکن جب تم نے، پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی تو ہم کو مجرم ٹھہرانے کے بجائے اپنے سر پیٹو۔ ہم بھ مجرم ہیں اور ہماری ہی طرح تم بھی مجرم ہو۔ یہ بات ہے تو کفار کے لیے لیکن قرآن نے یہ ایک سچی بات کی حیثیت سے نقل کی ہے اور اس میں ہر دور کے عوام کے لے درس عبرت ہے کہ حو و ہدایت کے معاملے میں کوئی شخص مجرد اس عذر پر عند اللہ بری نہیں ہوسکتا کہ اس کو دوسروں نے گمراہ کیا بلکہ حق کی جستجو ہر شخص کی اپنی ذمہ داری ہے اور اس کے واضح ہونے کے بعد اس کی پیروی تاحدامکان ہر فرد پر لازم ہے۔ اس کے بغیر کوئی عند اللہ بری نہیں ہوسکتا۔