Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 33

  1. وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿33﴾

    1. وَقَالَاور کہیں گے
    2. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    3. اسْتُضْعِفُوْاکمزور کیے گئے (ناتوان)
    4. لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْاان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے (بڑے)
    5. بَلْبلکہ
    6. مَكْرُچال
    7. الَّيْلِ وَالنَّهَارِرات اور دن
    8. اِذْ تَاْمُرُوْنَنَآجب تم حکم دیتے تھے ہمیں
    9. اَنْ نَّكْفُرَکہ ہم انکار کریں
    10. بِاللّٰهِاللہ کا
    11. وَنَجْعَلَاور ہم ٹھہرائیں
    12. لَهٗٓاس کے لیے
    13. اَنْدَادًا ۭشریک (جمع)
    14. وَاَسَرُّوااور وہ چھپائیں گے
    15. النَّدَامَةَشرمندگی
    16. لَمَّا رَاَوُاجب وہ دیکھیں گے
    17. الْعَذَابَ ۭعذاب
    18. وَجَعَلْنَااور ہم ڈالیں گے
    19. الْاَغْلٰلَطوق
    20. فِيْٓ اَعْنَاقِگردنوں میں
    21. الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
    22. هَلْ يُجْزَوْنَوہ سزا نہ دیے جائیں گے
    23. اِلَّامگر
    24. مَاجو
    25. كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور دبے ہوئے لوگ متکبرین سے کہیں گے، بلکہ تمہاری رات دن کی سازشیں تھیں (جو قبول حق میں مانع ہوئیں) جب کہ تم ہمیں سمجھاتے تھے کہ ہم اللہ کا کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں۔ اور وہ دلوں میں نادم ہوں گے جب دیکھیں گے عذاب کو۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے۔ یہ وہی بدلہ میں پائی گے جو وہ کرتے رہے تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقال الذی استضعفوا اللذین استکبروا بل مکر الیل والنھار اذ تامرونان ان تکفر باللہ ونجعل لہ اندادا واسرو الندامہ لما راو العذاب وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفروا ھل یجزون الا ما کانو ایعملون (33) عوام لیڈروں کے جواب میں کہیں گے کہ یہ تمہاری رات دن کی سازشیں تھیں کہ ہم حق کی پیروی سے محروم رہے۔ تم نے رسول کی ہدایت سے برگشتہ کرنے کے لئے پروپیگنڈے کی مہم چلا رکھی تھی اور ہمیں تم یہ سمجھاتے اور سکھاتے تھے کہ ہم برابر کفر و شرک پر جمے رہیں۔ اس جواب سے یہ بات نکلی کہ ان کو اس امر کا تو اعتراف ہوگا کہ حق ان پر واضح تھا لیکن وہ اس وجہ سے اس کی پیروی نہ کرسکے کہ ان کے لیڈروں کی رات دن کی سازشوں نے انہیں اس کی پیروی سے محروم رکھا۔ ’ واسروالندامۃ لما راو العذاب، اسرا الندامۃ ‘ اسی طرح کا محاورہ ہے جس طرح ابطن العداوۃ ہے ندامت ایک کیفیت قلبی و باطنی ہے اس وجہ سے اس کے لئے ’ استر ‘ استعمال ہوا ہے۔ مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اس سوال و جواب کے بعد جب وہ دیکھیں گے کہ سامنے عذاب کھڑا ہے تو وہ اپنی بدبختی پر سخت پشیمان ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعلاویٰ کے ہاں ان کا یہ عذر مسموع نہیں ہوگا کہ وہ پنے لیڈروں کی سازشوں کے سبب سے ہدایت کی پیروی سے محروم رہے بلکہ ان کو لازماً عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان کی پیشمانی کی وجہ یہ ہوگی کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات بالکل کھل کر آجائے گی کہ وہ فی الحقیقت انہوں نے بالکل اپنے ضمیر کے خلاف اپنے لیڈروں کی پیروی کی۔ جو آدمی اپنے ضمیر کے خلاف کسی باطل کی پیروی کرتا ہے جب اس کا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے تو اس کو صرف نتیجہ کی تلخی ہی سے سابقہ نہیں پڑتا بلکہ اپنے ضمیر کی لعنت سے بھی اس کو دوچار ہونا پڑتا ہے اور یہ چیز اس کی مصیبت کو دو چند کردیتی ہے۔ یہ مضمون احزاب کی آیات 66۔ 68 میں گزر چکا ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ ’ وجعلنا الاغلال فی اعناق الذین کفروا۔ ‘ فرمایا کہ ہم ان کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ یہ عمل اوعر جزاء میں مطابقت کی طرف اشارہ ہے۔ جو لوگ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کو بالکل معطل کرکے اپنی باگ دوسروں کے ہاتھ میں پکڑا دیں گے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو اس کی سزا یہ دے گا کہ انکی گردنوں میں طوق ڈال دیے جائیں گے جن کو پکڑ کر دوزخ کے داروغے ان کو دوزخ میں گھسیٹیں گے۔ ’ ھل یجزون الا ما کو نو یعملون ‘۔ یعنی ان کی گردنوں میں یہ طوق جو ڈالے جائیں گے تو ایہ ان کے ساتھ کوئی ناانصاف نہیں ہوگی بلکہ دنیا میں جو کچھ انہوں نے کیا اسی کی اصل حقیقت ان کے سامنے اس شکل میں آئے گی۔ انہوں نے دوسروں کی غلامی کا قلادہ اپنی گردنوں میں ڈال کر اپنے رب کی نافرمانی کی جس کے نتیجہ میں ان کو دوزخ کے یہ اغلال اپنی گردنوں میں ڈالنے پڑیں گے۔