تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 35
وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ﴿35﴾
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- نَحْنُہم
- اَكْثَرُزیادہ
- اَمْوَالًامال میں
- وَّاَوْلَادًا ۙاور اولاد میں
- وَّمَااور نہیں
- نَحْنُہم
- بِمُعَذَّبِيْنَعذاب دیئے جانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انہوں نے کہا کہ ہم تو تم سے مال واولاد میں بڑھ کر ہیں، اور ہم کبھی مبتلائے عذاب ہونے والے نہیں ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’ وقالو انحن اکثر اموالا اولادا وما نحن بمعذبین (35)
یعنی رسولوں کے انداز کی تکذیب کے حق میں جو دلیل انہوں نے پیش کی وہ یہی تھی جو تمہارے زمانے کے مترفین پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو جواب دیا کہ تم ہمیں ڈراتے ہو کہ ہمارا عقیدہ و عمل باطل ہے اور ہم خدا کے عذاب کے سزاوار ہیں اور حال یہ ہے کہ ہم مال و اولاد میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔ اگر تمہاری بات سچی ہوتی تو اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ مال و اولاد میں تم ہم سے پڑھ چڑھ کر ہوتے۔ وما نحن بمعذبین ‘ یعنی جب صورت حال علانیہ تمہاری تکذیب کر رہی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ تم مھض لاف زنی کررہے ہو، ہم پر نہ اس دنیا میں کوئی عذاب آنے والا ہے اور نہ آخرت میں (اگر تمہارے زعم کے مطابق وہ ہونی) ہمیں کسی عذاب کا کوئی اندیشہ ہے۔