Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 4

  1. لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ﴿4﴾

    1. لِّيَجْزِيَتاکہ جزا دے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاان لوگوں کو جو ایمان لائے
    3. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
    4. الصّٰلِحٰتِ ۭنیک
    5. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    6. لَهُمْان کے لیے
    7. مَّغْفِرَةٌبخشش
    8. وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌاور عزت کی روزی
Translation · Tadabbur-e-Quran
تاکہ وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ وہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور رزق کریم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لیجزی الذی امنوا وعملوالصلحت اولئک لھم مغفرۃ ورزق کریم والذین سعو فی ایتنا معجزن اولئک لھم عذبا من رجز الیم (4۔ 5) یہ قیامت کی ضرورت واجح فرمائی کہ اس کا آنا کیوں ضروری ہے۔ فرمایا کہ اس لئے ضروری ہے کہ وہ نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کے نزدیک نیک و بد دونوں یکساں ہیں حالانکہ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اللہ تعالیٰ ایمان و عمل صالح والوں کو ان کی نیکیوں کا صلہ اور جنہوں نے اللہ کی باتوں کو شکست دینے کی کوشش کی ان کو ان کی اس سعئی نامراد کی سزا دے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ قیامت کا اصل مقصد ایل ایمان کو صلہ دینا بتایا گیا ہے۔ اس لئے کہ اس کا اصل مقصود درحقیقت ہے ہی یہی۔ مجرمین کو سزا دینا اس کے مقاصد میں سے نہیں بلکہ اس کے لوازم و نتائج میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا رحمت کے لئے بنائی ہے اور اس رحمت ہی کے لئے اس نے آخرت کا دن بھی رکھا ہے لیکن اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ جو لوگ اپنے آپ کو اس رحمت کا سزاوار نہیں بنائیں گے وہ اس کی نعمت کی سزاوار ٹھہریں گے۔ اہلِ ایمان کے لے دوچیزوں کا یہاں ذکر فرمایا ہے۔ ایک مغفرت، دوسری، رزق کریم، مغفرت، سے مراد یہ ہے کہ ایمان و عمل صالح کی زندگی بسر کرتے ہوئے ان سے جو کوتاہیوں اور غلطیاں صادر ہوئی ہوں گی اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمائے گا۔ رزق کریم، ان تمام افضال و غایات کی ایک جامع تعبیر ہے جن کے وہ جنت میں وارث ٹھہریں گے۔ کفار کا ذکر یہاں ’ الذین سعو فی ایتنا معجزین ‘ کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔ ’ معاجرۃ ‘ کے معنی ایک دوسرے کو شکست دینے کے قصد سے باہم مسابقت کرنا ہے۔ مطلب یہ یہ کہ جن کی تگ و دود رات دن اللہ کی آیات اور اس کی باتوں کو شکست دینے کے لئے وقف رہی ہے ان کو اللہ تعالیٰ ’ رجز الیم ‘ کے عذاب میں سے حصہ دے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ کفر کے سرغنوں کی طرف ہے جن کے لئے عذاب بھی مخصوص ہوگا۔ اسی مخصوص عذاب کو عذاب من رجز الیم ‘ سے تعبیر فرمایا۔ ’ رجز ‘ اس عذاب کو کہتے ہیں جو نہایت ہولناک ہو۔