تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 3
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ﴿3﴾
- وَقَالَاور کہا (کہتے ہیں)
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
- لَا تَاْتِيْنَاہم پر نہیں آئے گی
- السَّاعَةُ ۭقیامت
- قُلْفرما دیں
- بَلٰىہاں
- وَرَبِّيْقسم میرے رب کی
- لَتَاْتِيَنَّكُمْ ۙالبتہ تم پر ضرور آئے گی
- عٰلِمِجاننے والا
- الْغَيْبِ ۚغیب
- لَا يَعْزُبُپوشیدہ نہیں
- عَنْهُاس سے
- مِثْقَالُ ذَرَّةٍایک ذرہ کے برابر
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَلَااور نہ
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَلَآاور نہ
- اَصْغَرُچھوٹا
- مِنْ ذٰلِكَاس سے
- وَلَآاور نہ
- اَكْبَرُبڑا
- اِلَّامگر
- فِيْمیں
- كِتٰبٍ مُّبِيْنٍروشن کتاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جنہوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آنے کی۔ کہہ دو ، ہاں میرے خداوند عالم الغیب کی قسم، وہ ضرور تم پر آکے رہے گی ! اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے نہ آسمانوں اور نہ زمین میں، اور نہ اس سے کوئی چھوتی چیز اور نہ بڑی۔ مگر وہ ایک واضح کتاب میں مرقوم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقل الذین کفروا لاتاتینا الساعۃ قل بلی و ربی لتاتینکم علم الغیب لایعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین (3)
یعنی جب اللہ حکیم وخبیر ہے، اس کا علم ہر چیز کا احاطہ بھی کیے ہوئے ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور آئے لیکن جو ہٹ دھرم ہیں وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور بڑے غرور کے ساتھ انکار کرتے ہیں کہ قیامت ہر گزر نہیں آئے گی۔
’ قل بلی وربی لتاتینکم جس طنطنہ کے ساتھ منکرین کا انکار تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر ﷺ کی زبان سے بقید قسم، جواب دلوایا کہ ان کو سنا دو کہ ہاں، میرے رب کی قسم ! وہ تم پر ضرور آ کے رہے گی۔
’ علم الگیب، لایعزب عنہ الایۃ عالم الغیب ’ ربی ‘ سے بدل واقع ہے یعنی میرے اس رب کی قسم جو تمام غیب سے واقف ہے، جس سے آسمانوں اور زمین میں، ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ بلکہ ہر چیز ایک نہایت واضح رجسڑ میں درج ہے۔
اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا بیان منکرین کی تہدید کے مقصد سے ہے کہ وہ چوکنے ہوں کہہ اس ڈھٹائی سے وہ قیامت کا جو انکار کر رہے ہیں تاکہ یاد رکھیں کہ نہ صرف یہ کہ وہ آئے گی بلکہ ہر ایک کو اپنے ایک ایک قول و عمل کا ِخواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، حساب بھی دینا ہے۔ ساتھ ہی اس میں ایک مغالطہ کا ازالہ بھی ہے وہ یہ کہ منکرین کے نزدیک قیامت کے استبعاد کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اتنی وسیع دنیا کے ایک ایک شخص کے ہر قول و فعل کا علم کسے ہوسکتا ہے کہ وہ سب کا حساب کرنے بیٹھے گا ! ان کے اس مغالطہ کو دور کرنے کے لئے یہاں بھی اللہ تالیٰ کے محیظ کل علم کا حوالہ دیا جس طرح اوپر توحید کے سلسلہ میں دیا ہے۔