تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 45
وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ع﴿45﴾
- وَكَذَّبَاور جھٹلایا
- الَّذِيْنَانہوں نے جو
- مِنْ قَبْلِهِمْ ۙان سے پہلے
- وَمَا بَلَغُوْااور وہ نہ پہنچے
- مِعْشَارَدسواں حصہ
- مَآ اٰتَيْنٰهُمْجو ہم نے انہیں دیا
- فَكَذَّبُوْاسو انہوں نے جھٹلایا
- رُسُلِيْ ۣمیرے رسولوں کو
- فَكَيْفَتو کیسا
- كَانَہوا
- نَكِيْرِمیرا عذاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا۔ اور یہ تو اس کے عشر عشیر کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے ان کو دیا۔ تو انہوں نے میرے رسولوں کی تکذیب کی تو دیکھو، کیس ہوئی ان پر میری پھٹکار !۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 45
یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ خدا کے رسول اور اس کے نذیر کی تکذیب کا لازمی نتیجہ اس قوم کی تباہی ہے اور پوری تاریخ انسانی اس سنت الٰہی کی شاہد ہے۔
’ وما بلغوا معشارما اتینھم ‘ کلام کے بیچ میں ایک برحل تنبیہ ہے کہ یہ ان قوموں کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو کروفر، شان و شوکت اور اسباب و وسائل کی فراوانی کے اعتبار سے اس مقام پر پہنچ چکی تھیں کہ قریش کے یہ متمروین ان کی گرد پا کر بھی نہیں پہنچے۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی تو ان پر خدا کی پھٹکا جس طرح ہوئی اس کی تفصیلات قرآن میں بیان ہوچکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو اپنے اسباب و وسائل کا غرہ ہے تو یہ غرہ بالکل بےبنیا دہ۔ بڑی صولت و شوکت کی قومیں خدا کی ایک پھونک میں اڑ گئیں تو ان کی کیا حقیقت ہے۔ ان کو تو ان کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہوا۔ یہ تو اپنی تنک ظرفی کے سبب سے بہت تھوڑے میں بہک گئے ہیں۔