تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 44
وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ﴿44﴾
- وَمَآاور نہ
- اٰتَيْنٰهُمْدیں ہم نے انہیں
- مِّنْ كُتُبٍکتابیں
- يَّدْرُسُوْنَهَاکہ انہیں پڑھیں
- وَمَآاور نہ
- اَرْسَلْنَآبھیجا ہم نے
- اِلَيْهِمْان کی طرف
- قَبْلَكَآپ سے پہلے
- مِنْ نَّذِيْرٍکوئی ڈرانے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں جن کو وہ پڑھتے ہوں اور نہ ان کی طرف تم سے پہلے کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’ وما اتینھم من کتب یدرسونھا وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر (44)
یہ ان مخالفین پر اظہارِ احسان اور ان کی اس ناقدری و محرومی پر اظہارِ افسوس ہے۔ فرمایا کہ یہ امی اور قرآن و کتاب سے ناآشنا لوگ رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ اللہ نے ان کو کوئی کتاب دی تھی جو ان کے لئے تعلیم و تعلم اور ارشاد ہدایت کا ذریعہ بنتی اور نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی نذیر آیا تھا جو ان کو اس غفلت کی نیند سے جگاتا اور آگے کے خطرات سے آگاہ کرتا۔ اس صورت حال کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس عظیم نعمت کی یہ دل و جان سے قدر کرتے، آگے بڑھ کر اس کو ہاتھوں ہاتھ لیتے اور اس سے اپنی دنیا بھی سنوارتے اور آخرت کی بادشاہی بھی حاصل کرتے لیکن یہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس طرح خدا کے اس قہر کو دعوت دے رہے ہیں جو سنت الٰہی کے مطابق اس قوم پر آکے رہتا ہے جو اس کے بھیجئے ہوئے نذیر جو جھٹلا دیتی ہے۔
’ کتب ‘ کے بعد یدرسونھا ‘ کی صفت سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اب تک ان کو اس طرح کے آسمانی صحیفے نہیں عطا ہوئے تھے جس طرح کے صحیفے بنی اسرائیل کی عطا ہوئے کو یہ ان کو پڑھتے پڑھاتے۔ حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے ذریعے سے ان کو جو تعلیم ملی تھی اس کی نوعیت روایات کی تھی جو امتداذ زمانہ سے تقریباً فراموش بھی ہوچکی تھی اور بدعات کے غلبہ سے ان کا حلیہ بھی بالکل بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ان کو اپنی کتاب دے کر ان پر اپنی نعمت تمام کردے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ اس کو سحر اور افتراء قرار دے رہے ہیں۔