تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 48
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ﴿48﴾
- قُلْفرمادیں
- اِنَّبیشک
- رَبِّيْمیرا رب
- يَقْذِفُڈالتا (اوپر سے) اتارتا ہے
- بِالْحَقِّ ۚحق کو
- عَلَّامُ الْغُيُوْبِسب غیبوں کا جاننے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
میرا رب حق کو (باطل پر) مارے گا۔ وہ تمام بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل ان ربی یقذف بالحق، علامہ الغیوب (48)
’ یقذف بالحق، کے بعد علی الباطل کے الفاظ بربنائے قرینہ مخدوف ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا۔ بل نقذف بالحق علی الباطل مغہ (الانبیاء : 18) (ہم حق کو باطل پر ماریں گے پس وہ اس کا بھیجا نکال کے رکھ دے گا)۔
یعنی ان نادانوں کو بتا دو کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ یہ دنیا یوں ہی پیدا ہوئی، یوں ہی تمام ہوجائے گی بلکہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس دن اس کا خالق اس کے حق و باطل میں فیصلہ فرمائے گا اور خق کو باطل پر مارے گا جس سے باطل پاش پاش ہو کے رہ جائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اصلاً تو یہ بات آخرت کی عدالتِ کیریٰ سے متعلق ہے لیکن یہی نتیجہی اس عدالتِ صغری کا بھی برآمد ہوتا ہے جو ایک رسول کی بعثت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہم جگہ جگہ اس سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ جس قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوئی اس قوم کے حق و باطل کا فیصلہ لازماً ہوگیا۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر حضور ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جاء الحق و زھق الباطل ان لباطل کان زھو قا، (حق آگیا اور باطل نابود ہوا، بیشک باطل نابود ہی ہونے والی چیز ہے)۔
’ علامہ الغیوب ‘۔ ہمارے نزدیک یہ مستقل جملہ ہے، اور مبتداء یہاں مخذوف ہے۔ یہ حق و باطل کے درمیان عدالت کی دلیل صفاتِ الٰہی سے پیش کی گئی ہے کہ اس کائنات کا رب تمام غیب کی باتوں کو جانتا ہے، کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے، اس وجہ سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کو کسی چیز کا فیصلہ کرنے میں کوئی زحمت پیش آئے گی۔ وہ ہر ایک کا پورا اعمال نامہ اس کے آگے رکھ دے گا جس میں اس کا ہر عمل درج ہوگا خواہ وہ کتنے ہی پوشیدہ گوشوں میں انجام دیا گیا ہو۔