Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 34. Saba · Ayah 49

  1. قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ﴿49﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. جَآءَ الْحَقُّحق آگیا
    3. وَمَا يُبْدِئُاور نہ پیدا کرے گا
    4. الْبَاطِلُباطل
    5. وَمَا يُعِيْدُاور نہ لوٹائے گا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نہ آغاز کرتا ہے اور نہ اعادہ۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل جاء الحق وما یبدی الباطل وما یعید (45) جس طرح اوپر کی آیت میں ’ یقذف بالحق ‘ کے بعد زھق الباطل ‘ کے الفاط حذف ہیں اسی طرح یہاں جاء الحق کے بعد زھق الباطل کے الفاظ حذف ہیں اور اس خلا کو وما یبدی الباطل وما یعید کے الفاظ نے بھر دیا ہے۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو بتادو کہ اب حق قرآن کی شکل میں آگیا اور جب حق آگیا تو اس باطل کا نابود ہونا لازمی ہے جس کی وہ پرستش کرتے رہے ہیں۔ اب اگر وہ اس باطل کے ساتھ چمٹے رہے تو اس کے ساتھ وہ بھی پس جائیں گے۔ ’ وما یبدی الباطل وما یعید ‘۔ یہ باطل کی بےثباتی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اس کارخانہ کائنات کا آغاز اس کے خالق نے حق کے ساتھ فرمایا ہے اس وجہ سے لازم ہے کہ اس کی انتہا بھی حق پر ہو۔ جب باطل کا کوئی دخل اس کے ابداء میں نہیں ہے تو اس کے اعادہ میں اس کا دخل کس طرح ہوجائے گا ؟ پس جو لوگ فرضی دیویوں دیوتائوں کی سفارشوں پر تکیہ کیے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں یاد رکھیں کہ ان کے دیوتائوں کے اختیار میں نہ کسی چیز کا ابداء ہے نہ اعادہ۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکینِ عرب اس کائنات کے ابداء میں کسی کو شریک نہیں مانتے تھے لیکن وہ اس بات کے قائل تھے کہ اگر آخرت کا مرحلہ پیش آیا تو ان کی واپسی ان کے معبودوں کی طرف ہوگی جو اپنی سفارشوں سے ان کو وہاں بھی اعلیٰ مراتب دلوائیں گے۔ قرآن نے ان کی اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے جگہ جگہ ان کے اس منالطہ پر گرفت کی ہے کہ جب تم اس کائنات کے ابداء میں کسی کو شریک نہیں مانتے تو اس کے اعادہ میں کیوں شریک مانتے ہو ؟ سورة یونس میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے :۔ الیہ مرجعکم جمیعا وعد اللہ حقا انہ یبدو الخلق ثمہ بعیدہ لجرزی الذین امنوا وعملو الصلحت بالقسط (یونس : 4) اسی کی طرف تم سب کی واپسی ہونی ہے۔ یہ اللہ کا شدنی وعدہ ہے۔ بیشک ہی خلق کا آغاز فرماتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ فرمائے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے۔ پھر یہ مضمون دوسرے اسلوب سے یوں بیان ہوا ہے : قل ھل من شرکاء کم من یبعا الخلق ثم یعیدہ فانی توفکون (یونس : 34) ان سے پوچھو تمہارے شرکاء میں سے کوئی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا ؟ کہہ دو ، اللہ ہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا۔ تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو !