Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 35. Faatir · Ayah 18

  1. وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ﴿18﴾

    1. وَلَا تَزِرُاور نہیں اٹھائے گا
    2. وَازِرَةٌکوئی اٹھانے والا
    3. وِّزْرَ اُخْرٰى ۭبوجھ دوسرے کا
    4. وَاِنْاور اگر
    5. تَدْعُبلائے
    6. مُثْقَلَةٌکوئی بوجھ سے لدا ہوا
    7. اِلٰى حِمْلِهَاطرف، لیے اپنا بوجھ
    8. لَا يُحْمَلْنہ اٹھائے گا وہ
    9. مِنْهُاس سے
    10. شَيْءٌکچھ
    11. وَّلَوْ كَانَخواہ ہوں
    12. ذَا قُرْبٰى ۭقرابت دار
    13. اِنَّمَااس کے سوا نہیں (صرف)
    14. تُنْذِرُآپ ڈراتے ہیں
    15. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    16. يَخْشَوْنَڈرتے ہیں
    17. رَبَّهُمْاپنا رب
    18. بِالْغَيْبِبن دیکھے
    19. وَاَقَامُوااور قائم رکھتے ہیں
    20. الصَّلٰوةَ ۭنماز
    21. وَمَنْاور جو
    22. تَزَكّٰىپاک ہوتا ہے
    23. فَاِنَّمَاتو صرف
    24. يَتَزَكّٰىوہ پاک صاف ہوتا ہے
    25. لِنَفْسِهٖ ۭخود اپنے لیے
    26. وَاِلَى اللّٰهِاور اللہ کی طرف
    27. الْمَصِيْرُلوٹ کر جانا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور اگر کوئی بوجھل جان اپنے بوجھ کے اٹھانے میں کسی سے طالب مدد ہوگی تو اس میں ذرا بھی اس کا ہاتھ نہیں بٹایاجائے گا اگرچہ وہ قرابت مند ہی کیوں نہ ہو۔ تم تو بس انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور جو پاکی حاصل کرتا ہے وہ اپنے لئے حاصل کرتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کی واپسی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 18 ’ ان تدع مثقلۃ الی حملھا لا یحمل منہ شئی ولو کان ذا قربی۔ ’ مثقلۃ ‘ سے پہلے موصوف مخدوف ہے۔ یعنی نفس مثقلۃ (اپنے بار گناہ کے نیچے دبی ہوئی جان)۔ اسی طرح ’ الیٰ حملھا ‘ میں ’ حمل ‘ سے پہلے مضاف مخذوف ہے اور ’ کان ‘ کے بعد اس کا اسم ’ المدعو ‘ مخدوف ہے۔ یہ تمام مخدوفات اعلیٰ عربیت کے معروف قواعد کے مطابق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے گناہوں سے بوجھل جان کسی کا پکارے گی کہ ذرا وہ اس کے بوجھ کے اٹھانے میں اس کو سہارا دے دے تو کوئی اسی کا ہاتھ بٹانے والا نہیں بنے گا اگرچہ جس کو وہ مدد کے لئے پکارے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ نیک تو اس لئے اس کا ہاتھ نہیں بٹائیں گے کہ جب وہ دنیا میں اس کے گناہوں میں اس کے ساتھی نہ بنے تو وہ آخرت میں اس کے ساتھی کیوں بنیں اور جو بد ہوں گے وہ خود اپنے بوجھ کے تلے دبے ہوں گے وہ کسی دوسرے کا کیا سہارا دے سکیں گے ! ’ ان تنذر الذین یحشون ربھم بالغیب واقامو الصلوۃ۔ ‘ یہ پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ تم ان حقائق سے لوگوں کو باخبر دو۔ اگر یہ متنبہ ہوتے ہیں تو فبہا۔ نہیں ہوتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارا انداز صرف انہیں لوگوں پر کارگر ہوسکتا ہے جو اپنی عقل اور سمع و بصر و فواد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں اور غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈریں اور نماز کا اہتمام کریں۔ رہے وہ لوگ جو سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے تو ان کا علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ ان کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑو۔ ’ واقام الصلوۃ ‘ کا ذکر یہاں ایمان کے اولین ثمرہ اور خشیت رب بالغیب کی علامت کے طور پر ہوا ہے۔ جو شخص غیب میں خدا سے ڈرتا ہے وہ لازماً نماز کا اہتمام کرتا ہے۔ جو نماز سی بےپروا ہے وہ خدا سے بےپروا ہے اگرچہ وہ زبان سے ایمان کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کرے۔ ’ ومن تزکی فانما یتزکی لنفسہ، والی اللہ المصیر ‘ یہ نماز کے فائدے کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص گناہوں کے بوجھ سے سبکدوش اور پاکیزہ ہونا چاہتا ہو وہ جھوٹے سہاروں پر اعتمار کرنے کے بجائے نماز کا اہتمام کرے۔ یہ چیز اس کو گناہوں سے پاک کرے گی، اور جس نے پاکیزگی حاصل کی وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اس لئے کہ اللہ کسی کی عبادت و اطاعت کا محتاج نہیں ہے بلکہ بندے خود ہی اس کے محتاج ہیں اور سب کی واپسی بہرحال اسی کی طرف ہونی ہے۔