Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 35. Faatir · Ayah 22

  1. وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ﴿22﴾

    1. وَمَا يَسْتَوِياور نہیں برابر
    2. الْاَحْيَآءُزندے
    3. وَلَااور نہ
    4. الْاَمْوَاتُ ۭمردے
    5. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    6. يُسْمِعُسنا دیتا ہے
    7. مَنْ يَّشَآءُ ۚجس کو وہ چاہتا ہے
    8. وَمَآ اَنْتَاور تم نہیں
    9. بِمُسْمِعٍسنانے والے
    10. مَّنْجو
    11. فِي الْقُبُوْرِقبروں میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نہ زندہ اور مردے یکساں ہوں گے۔ اللہ ہی جن کو چاہتا ہے سناتا ہے اور تم ان کو سنانے والے نہیں بن سکتے جو قبروں کے اندر ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 22 یہ وہی مضمون دوسرے الفاظ اور دوسرے اسلوب میں بیان ہوا ہے۔ اس دور میں نبی ﷺ کو اپنی قوم کو بیزاری سے بڑی پریشانی تھی۔ آپ کو اندیشہ تھا کہ مبادا اس میں آپ ﷺ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ آپ ﷺ کی یہ پریشانی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف اسلوبوں سے تسلی دی کہ تمہارا کام زندوں کو سنانا ہے، مردوں کو جگانا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ جن کی صلاحیتوں زندہ ہیں وہ تمہاری بات سن رہے ہیں اور مان رہے ہیں۔ رہے وہ جو عقلی و روحانی اعتبار سے بالکل مردہ ہوچکے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہاری بات سننے والے بن جائیں تو یہ ہونے سے رہا۔ ’ ان اللہ یسمع من یشاء۔ ’ اسماع ‘ یہاں بات کو سننے اور ماننے کی توفیق دینے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی یہ اللہ ہی ہے جو سچی سننے اور اس کو ماننے کی، جس کو چاہتا ہے، توفیق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر چاہنا اس کی حکمت کے تحت ہے۔ اس معاملے میں اس کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ اس کی بخشی ہوئی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھتے ہیں ان کو تو وہ مزید سننے سمجھنے اور ماننے کی توفیق بخشتا ہے اور جو لوگ اپنی فطری ہدایت کی قدر نہیں کرتے وہ اخلاقی اعتبار سے مردوں کے حکم ہیں ان کو زندہ کرنا خدا کے سوا کسی کے امکان میں نہیں۔ یہ تبلیغ و دعوت کے معاملے میں نبی ﷺ کی ذمہ داری کی صدا واضح فرمادی کہ تم بس لوگوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کردینے والے ہو۔ یہ ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے کہ لوگ تمہاری بات مان بھی لیں۔ تم کو خدا نے حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ جن باتوں کی تم خبر دے رہے ہو ان میں سے ہر بات شدنی ہے۔ پس تمہارا کام یہ ہے کہ جو لوگ تمہاری باتوں پر کان دھریں ان کو ان کے مبارک انجام کی خوش خبری سنا دو۔ اور جو لوگ تمہاری باتوں سے منہ موڑیں ان کو ان کے انجام ِ بد سے آگاہ کردو۔ اس سے زیادہ تمہاری کوئی ذمہ داری ہے۔ اس وجہ سے تمہیں ان کے لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’ وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر۔ ‘ یعنی تم دنیا میں پہلے نذیر نہیں ہو، بلکہ ماضی میں جو قومیں گزری ہیں ان میں بھی اللہ نے اپنے نذیر بھیجے تو ان کر سرگزشت میں تمہارے لئے بھی سبق ہے اور تمہاری قوم کے لئے بھی درس عبرت ہے۔ تمہارے ساتھ اللہ وہی معاملہ کرے گا جو اس نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا اور تمہاری قوم کے ساتھ بھی لازما ً وہی معاملہ کرے گا جو پچھلی قوموں کے ساتھ اس نے کیا۔