تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 35. Faatir · Ayah 29
اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ﴿29﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- يَتْلُوْنَجو پڑھتے ہیں
- كِتٰبَ اللّٰهِاللہ کتاب
- وَاَقَامُوااور قائم رکھتے ہیں
- الصَّلٰوةَنماز
- وَاَنْفَقُوْااور خرچ کرتے ہیں
- مِمَّااس سے جو
- رَزَقْنٰهُمْہم نے انہیں دیا
- سِرًّاپوشیدہ
- وَّعَلَانِيَةًاور علانیہ (ظاہر)
- يَّرْجُوْنَوہ امید رکھتے ہیں
- تِجَارَةًایسی تجارت
- لَّنْ تَبُوْرَہرگز گھاٹا نہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، نماز کا اہتمام کرتے اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس کے لئے کبھی کساد بازاری نہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 29۔ 38
اوپر کے پیرے میں جو بات اصولی حیثیت سے بیان فرمائی ہے آگے کی آیات میں اسی کو واقات و حالت پر منطبق کیا ہے یعنی یہ واضح فرمایا ہے کہ پچھلی امتوں کے وارثین میں سے کون لوگ ہیں جو علماء کے لقب کے مستحق ہیں اور وہ اس قرآن پر ایمان لانے والے بنیں گے اور اب جس قوم کو اللہ نے اپنی کتاب کی وراثت کے لئے منتخب کیا ہے اس کے اخیار یا اشرار اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کریں گے۔ پھر ان دونوں کے نتائج اعمال کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
آیت 29
اوپر آیت 28 میں جن لوگوں کو ’ علما ‘ کہا ہے اور جن کی تعریف میں فرمایا ہے کہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء (اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈریں گے جو علم رکھنے والے ہیں)۔ یہ انہی علماء کی تفصیل ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، نماز کا اہتما کرتے اور خدا کے بخشے ہوئے رزق و فضل میں سے فیاضی کے ساتھ، سرا وعلانیۃ راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں، یہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ اور ان کا یہ انفاق ایک ایسی تجارت ہے جس کے لئے مستقبل میں کسی کساد بازاری کا اندیشہ نہیں بلکہ اس کی برکات میں برابر اضافہ پر ہوتا رہے گا۔
یہ اشارہ اگرچہ ان تمام صالحین کی طرف ہوسکتا ہے جو ان صفات سے متصف تھے لیکن میرا ذہن اس طرف جتا ہے کہ یہ ان علمائے اہل کتاب کی طرف اشارہ یہ جو قرآن پر ایمان لائے اور قرآن نے جگہ جگہ جن کی تعریف فرمائی ہے۔ میرے نزدیک اس کا قرینہ یہ ہے کہ ان کے ذکر کے بعد بنی اسماعیل کے اخیار اور اشرار کا زکر آیت 32 میں مستقلاً آرہا ہے اور ان کا ذکر ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادتا (پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو جن کو اس کے لئے منتخب کیا) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یہاں لفظ ثم (پھر) اس بات کی دلیل ہے کہ اوپر جن لوگوں کا ذکر ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن سے پہلے کی کتاب کے وارث بنائے گئے تھے اور وہ اللہ کی توفیق سے اس پر قائم رہے جس کی برکت سے ان کو قرآن کے نازل ہونے کے بعد اس پر بھی ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوئی۔
یہاں ان صالحین اہل کتاب کی تعریف میں تین باتوں کا ذکر خاص طور پر کیا ہے۔ تلاوتِ کتاب اللہ، اقامت صلوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی تین چیزیں دین کی حقیقی محافظ اور خشیت الٰہی کی اصلی علامت ہیں اور قرآن میں نہایت تصریح کے ساتھ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ یہود نے اپنی کتاب فراموش کردی تھی، نماز ضائع کر بیٹھے تھے اور ان پر نحالت و زرپرستی کی بیماری مسلط ہوگئی تھی اس وجہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کی سعادت سے محروم ہے۔ ان کے اندر سے صرف وہ لوگ قرآن پر ایمان لائے جو ان بیماریوں سے محفوظ رہے۔
’ یرجون تجارۃ لن تبور ‘ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جنہوں نے اس دنیا کی زندگی کو مقصود بنا کر حرام و حلال کی کمائی سے اپنی تجوریاں بھریں اور ہر ایک نے راک فیلر بننے کی کوشش کی ان کا حشر تو ایک دن یہ ہونا ہے کہ ان کی ساری دولت خاک اور راکھ ہو کر اڑ جائے گی۔ البتہ جو لوگ اپنی دولت اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے وہ اپنا سرمایہ ایک ایسے کاروبار میں لگا رہے ہیں جس میں کبھی کسی خسارے کا اندیشہ نہیں ہے۔