Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 35. Faatir · Ayah 36

  1. وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ﴿36﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور وہ جن لوگوں نے
    2. كَفَرُوْاکفر کیا انہوں نے
    3. لَهُمْان کے لیے
    4. نَارُ جَهَنَّمَ ۚجہنم کی آگ
    5. لَا يُقْضٰىنہ قضا آئے گی
    6. عَلَيْهِمْان پر
    7. فَيَمُوْتُوْاکہ وہ مرجائیں
    8. وَلَا يُخَفَّفُاور نہ ہلکا کیا جائے گا
    9. عَنْهُمْان سے
    10. مِّنْسے۔ کچھ
    11. عَذَابِهَا ۭاس کا عذاب
    12. كَذٰلِكَاسی طرح
    13. نَجْزِيْہم سزا دیتے ہیں
    14. كُلَّ كَفُوْرٍہر ناشکرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ نہ ان کی قضا ہی آئے گی کہ مر جائیں اور نہ ان سے ان کا عذاب ہی کچھ ہلکا کیا جائے گا۔ ایسا ہی ہم بدلہ دیں گے ہر ناشکرے کو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 36۔ 37 یہ کفار کے کے انجام کا بیان ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ جہنم میں اتارے گا جہاں ان کا حال یہ ہوگا کہ نہ ان کو موت ہی آئے گی کہ مر کے اس عذاب سے رہائی پائیں۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہی کی جائے گی کہ ذرا دم لے لیں۔ من عذابھا کے بعد فیستر یحوا، یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ بر بنائے قرینہ مخدوف ہے۔ ’ کذلک نجزی کل کفور۔ ‘ یعنی یہ جو کچھ ہم سنا رہے ہیں، یہ صرف دوسروں ہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ ہر ناشکرے نابکار کو ہم اسی طرح سزا دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھی اسی سزا کے مستحق ٹھہریں گے جو آج ہماری کتاب اور ہمارے رسول کی تکذیب کر رہے ہیں۔ اس فقرے سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے۔ ’ وھم یصطرخون فیھا الایۃ ‘۔ وہ اسی جہنم میں پڑے فریاد کریں گے کہ اے رب، ہم کو یہاں سے ایک بار رہائی دے کہ ہم دنیا میں جا کر نیک عمل، اس سے بالکل مختلف، کریں جو ہم اب تک کرتے رہے ہیں۔ ’ اولم نعموکم یا یتذکر فیہ من تذکرو جاء کم النذیر۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب ملے گا کہ کیا تمہیں اتنی مہلت نہیں ملی جس میں ایک یاددہانی حاصل کرنے والا یاد دہانی حاصل کرسکے ؟ علاوہ ازیں تمہارے پاس ایک آگاہ کردینے والا رسول بھی آیا ! تو اب کسی بات کے لئے مہلت مانگتے ہو ! اب تمھا را کوئی مددگار نہیں بن سکتا، اب تو جس عذاب کے اسباب تم نے فراہم کیے اس کا مزہ چکھو۔ اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عمر بھی کافی دی اور ان پر کسی مندذر کے ذریعے سے حجت بھی تمام کردی گئی ان کے ساتھ تو کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی لیکن جو لوگ سنِ وسال کی پختگی کو پہنچنے سے پہلے ہی مر گئے یا قتل ہوگئے ان کے ساتھ معاملہ نسبتہً ذرا نرم ہوگا۔