تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 15
قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ﴿15﴾
- قَالُوْاوہ بولے
- مَآ اَنْتُمْتم نہیں ہو
- اِلَّامگر۔ محض
- بَشَرٌآدمی
- مِّثْلُنَا ۙہم جیسے
- وَمَآاور نہیں
- اَنْزَلَاتارا
- الرَّحْمٰنُرحمن (اللہ)
- مِنْ شَيْءٍ ۙکچھ
- اِنْنہیں
- اَنْتُمْتم
- اِلَّامگر ۔ محض
- تَكْذِبُوْنَجھوٹ بولتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو بس ہمارے ہی جیسے بشر ہو ! اور خدائے رحمان نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے، تم لوگ بالکل جھوٹ دعویٰ کرتی ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قالو ما انتتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شئی ان انتم الا تکذبون (15)
یہ وہی اعتراض ہے جو ہر رسول کے مکذبین نے اپنے اپنے رسولوں کے خلاف اٹھایا ہے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو تو تم خدا کے رسول کیسے ہوئے ! اگر خدا کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کسی برتر مخلوق کو رسول بناتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے انسانون کو۔ یہ اعتراض قرآن میں رسولوں کے مکذبین کی زبان سے بار بار نقل ہوا ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو بھی حضرت موسیٰ ؑ پر یہ اعتراض تھا اور یہی اعتراض قریش نے آنحضرت ﷺ کے خلاف بھی اٹھایا تھا۔
’ وما انزل الرحمن الایۃ ‘۔ یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے تم پر کوئی کتاب یا وحی نازل کی ہے، بالکل جھوٹ ہے۔ خدا نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے۔