Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 30

  1. یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿30﴾

    1. يٰحَسْرَةًہائے حسرت
    2. عَلَي الْعِبَادِ ڱبندوں پر
    3. مَا يَاْتِيْهِمْنہیں آیا ان کے پاس
    4. مِّنْ رَّسُوْلٍکوئی رسول
    5. اِلَّامگر
    6. كَانُوْاوہ تھے
    7. بِهٖاس سے
    8. يَسْتَهْزِءُوْنَہنسی اڑاتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
افسوس ہے بندوں کے حال پر ! جو رسول بھی ان کے پاس آئے وہ ان کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 30 یہ مکذبی رسول کی بدبختی پر اظہارِ افسوس ہے کہ ہمیشہ سے لوگوں کا حال یہی رہا ہے ہے جب اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے کوئی رسول بھیجا تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا ہے اور پھر اس کے انجام بد سے دو چار ہوئے ہیں۔ چناچہ جو روش فرعون اور اس کی قوم نے اپنے رسولوں کے ساتھ اختیار کی آج وہی روش قریش نے اپنے رسول اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اختیار کی ہے او لازماً یہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوں گے جس سے ان کے پیشرو دو چار ہوئے۔ رسول۔ خدا کی سب سے بڑی رحمت بن کر آتا ہے لیکن اس کو مذاق۔۔ تو پھر اس سے بڑی نقمت بھی کوئی نہیں ہے۔