Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 36. Yaseen · Ayah 81

  1. اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ﴿81﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَيْسَنہیں
    3. الَّذِيْوہ جس نے
    4. خَلَقَپیدا کیا
    5. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    6. وَالْاَرْضَاور زمین
    7. بِقٰدِرٍقادر
    8. عَلٰٓيپر
    9. اَنْکہ
    10. يَّخْلُقَوہ پیدا کرے
    11. مِثْلَهُمْ ڲان جیسا
    12. بَلٰى ۤہاں
    13. وَهُوَاور وہ
    14. الْخَلّٰقُبڑا پیدا کرنے والا
    15. الْعَلِيْمُدانا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ ان کی جیسی مخلوق پیدا کرنے پر قادر نہیں ! ہاں وہ قادر ہے اور وہی اصل پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 81 اسی استبعاد کو ایک دوسرے پہلو سے رفع فرمایا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کردیا اور اس کو اس میں کوئی مشکل نہیں پیش آئی کیا وہ ان کی جیس مخلوق کو دوبارہ پیدا کردینے پر قادر نہیں ہوسکتا ؟ یہ سوچیں کہ ان دونوں میں زیادہ مشکل کام کون سا ہے ؟ بلی وھو الخلاق العلیم ‘۔ یہ اس سوال کا خود ہی جواب دیا ہے کہ ہاں، وہ پوری طرح قادر ہے کہ ان کو دوبارہ پیدا کردے۔ اس جواب سے مخاطب کے لئے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی اگرچہ وہ کتنی ہی سخن سازیاں کرے۔ ’ وھو الخلاق العلیم ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے مذکورہ دعوے پر دلیل ہے کہ اصل پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا تو خدا ہی ہے۔ اوپر آیت 79 میں فرمایا ہے وھو بکل خلق علیم ‘ اسی مضمون کو یہاں زیادہ زور دار الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ خدا بڑا پیدا کرنے والا ہے، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس دنیا کو پیدا کرکے وہ تھک گیا یا اس کی قوت تخلیق ختم ہوگئی بلکہ وہ اسی طرح تازہ دم ہے جس طرح پہلے تھا اور وہ اپنی ہر مخلوق کے اجزائے ترکیبی سے اچھی طرح باخبر ہے، وہ جب چاہے گا ازسر نو اسکے پور پور اور جوڑ جوڑ کو ٹھیک کرے گا۔