تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 1
وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ﴿1﴾
- وَقسم
- الصّٰٓفّٰتِصف باندھنے والے
- صَفًّاپرا جما کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
شاہد ہیں صفیں باندھے، حاضر رہنے والے فرشتے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیت کی وضاحت
آیت 1
’ و ‘ قسم کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں یہ تعظیم کے لئے نہیں بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لئے ہیں۔ استاذ امام ؒ نے اپنے رسالہ الامعان فی اقسام القرآن ‘ میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے۔ ہمارے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ قسم کے اس مفہوم کی روشنی میں ’ والصفت صفا ‘ کا ترجمہ ‘ شاہد ہیں صفیں باندھے ہوئے حاضر رہنے والے فرشتے۔ کیا جائے تو یہ قسم کی مفہوم کی بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والا ہوگا۔
’ صافات ‘ یہاں فرشتوں کی صفت کے طور پر آیا ہے اور اس کی وضاحت اسی سورة میں خود حضرت جبرئیل ؑ کی زبانی ہوگئی ہے۔ ان کا ارشد نقل ہوا ہے۔ ’ وما منا الا الہ مقام معلوم وانا لنحن الصافون وان النحن المسبحون (164۔۔۔ 16) (اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک معین مقام ہے اور ہم تو صف بستہ رہنے والے ہیں اور ہم تو تسبیح کرتے رہنے والے ہیں)۔
قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان فرشتوں کا ذکر ہے جو ملاء ’ علی ‘ کے زمرے سے تعلق رکھتے اور عرس الٰہی کے ارد گرد صف بستہ رہتے ہیں۔ سورة زمر میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے : وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم (75) (اور تم دیکھو گے فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے ارد گرد اپنے رب کی تسبیح کرتے ہوئے، اس کی حمد کے ساتھ)۔